کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ میں مونکی پاکس کے دو مزید مریض سامنے آنے کے بعد اس سال صوبے میں رجسٹرڈ کیسز کی مجموعی تعداد 95 ہوگئی ہے اور وائرس سے اب تک 11 افراد انتقال کرچکے ہیں۔
سندھ میں صحت حکام اور ڈاؤ یونیورسٹی کے صوبائی پبلک ہیلتھ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق دو تازہ کیسز 21 سالہ سلمان علی اور 23 سالہ عشرت فاطمہ میں تصدیق ہوئے ہیں۔ دونوں مریض مثبت ٹیسٹ کے بعد سندھ انفیکشنز ڈیزیز ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سال صوبے میں منظر عام پر آنے والے 95 کیسز میں سے 71 مرد تھے جو 75.27 فی صد بنتے ہیں جب کہ 24 خواتین شامل ہیں۔ عمر کے لحاظ سے 30 سے 39 سال کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے جن میں 26 تصدیق شدہ کیسز ریکارڈ ہوئے، جبکہ 9 سال تک کے 23 بچے بھی مثبت آئے۔
ماہانہ تقسیم کے اعدادوشمار کے مطابق اپریل میں سب سے زیادہ 31 کیسز درج ہوئے، اس کے بعد ستمبر میں 20، اگست 17، جولائی 7، اکتوبر میں اب تک 6، مارچ 5، جون 4 اور مئی میں 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مونکی پاکس ایک وائرل مرض ہے جو متاثرہ فرد کے قریب جسمانی یا جلدی رابطے، زخموں، جسمانی مائعات یا آلودہ اشیاء کے ذریعے پھیل سکتا ہے، اس لیے شبہ ہونے کی صورت میں مریضوں کو دوسروں کے قریب رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔ عام علامات میں بخار، سر درد، جسم کا درد، کمزوری، لمف نوڈز کی سوجن اور جلدی خراشیں یا چھالے شامل ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ اضافی کیسز نے نگرانی اور روک تھام کے اقدامات جاری رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔




