نیٹ بلنگ کے بعد پاکستان میں سولر صارفین بیٹریاں استعمال کرنے لگے، حکومت متحرک

نیٹ بلنگ قواعد میں تبدیلی کے بعد پاکستانی صارفین اضافی سولر بجلی گرڈ کو بیچنے کے بجائے بیٹریاں خرید کر محفوظ کر رہے ہیں؛ جنوری 2024 تا اگست 2026 میں 6.004 گیگاواٹ بیٹریاں درآمد ہوئیں۔

پاکستانی صارفین نیٹ بلنگ کے قواعد میں تبدیلیوں کے بعد اضافی سولر بجلی گرڈ کو بیچنے کے بجائے بیٹریوں میں محفوظ کر رہے ہیں، جنوری 2024 تا اگست 2026 میں مجموعی 6.004 گیگاواٹ بیٹریاں درآمد ہوئیں اور اپریل 2026 میں سب سے زیادہ 652.2 میگاواٹ وارد کی گئیں۔ حکومت نے قومی بیٹری فریم ورک تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

نیٹ بلنگ کے قواعد میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بعد پاکستانی صارفین اضافی سولر بجلی کو قومی گرڈ کو برآمد کرنے کے بجائے گھر یا کاروبار میں بیٹری اسٹوریج میں محفوظ کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے بیٹریوں کی درآمدات اور سرمایہ کاری میں تیزی پیدا کر دی ہے۔

پاکستان بیٹری امپورٹ مارکیٹ رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 سے اگست 2026 تک ملک میں مجموعی اسٹوریج صلاحیت کے حامل بیٹریاں 6.004 گیگاواٹ لائی گئیں۔ وارداتیں اپریل 2026 میں عروج پر پہنچیں، جب 652.2 میگاواٹ اسٹوریج صلاحیت کی بیٹریاں درآمد کی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل 2026 میں صارفین نے محض اسی ماہ میں بیٹری سسٹمز میں 126 بلین روپے کی سرمایہ کاری کی، جو ظاہر کرتی ہے کہ گھرانوں اور کاروباری صارفین نے اضافی سولر پاور کو بعد ازاں استعمال کے لیے ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس تیزی کی وجہ کم ہوتی ہوئی بیٹری قیمتیں بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹری پیک کی اوسط قیمت 2022 میں $151 فی کلوواٹ گھنٹہ سے کم ہو کر 2025 میں تقریباً $70 فی کلوواٹ گھنٹہ رہ گئی، جس سے اسٹوریج سسٹمز صارفین کے لیے زیادہ قابلِ برداشت ہو گئے ہیں۔

بڑھتی ہوئی مقامی مانگ کے تناظر میں وفاقی حکومت نے ایک نیشنل بیٹری فریم ورک کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ درآمدات، تنصیب اور کوڑے دان کے انتظام جیسے امور کو منظم کیا جا سکے۔ رپورٹ یہ بھی نوٹ کرتی ہے کہ پاکستان میں سولر اور بیٹری اپنانے کی رفتار خطے کے کئی ممالک سے تیز ہے۔

متعلقہ توانائی اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی بجلی پیداوار کی صلاحیت سولر کو نکال کر تقریباً 39,000 میگاواٹ ہے، جبکہ ترسیل و تقسیم کے نقصانات کل پیداوار کا 18 فیصد تک بنتے ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی اسٹوریج کی صلاحیت 2030 تک 1.5 ملین میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے اور 2024 سے 2035 کے دوران بیٹری اسٹوریج میں سرمایہ کاری $1.2 ٹریلین متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر بیٹری اسٹوریج میں اضافے سے صارفین کو اپنی بجلی کے استعمال پر کنٹرول ملے گا، مگر اس کے لیے ریگولیٹری فریم ورک، معیار اور ضابطے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جسے حکومت نیشنل بیٹری فریم ورک کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515