سپنتک 7027 میٹر: ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت واپس لانے کے لیے ریسکیو ٹیم روانہ

موسمی حالات بہتر ہونے پر 25 اگست کو ریسکیو ٹیم بیس کیمپ سے روانہ ہو گئی ہے تاکہ سپنتک چوٹی سے ہلاک ہونے والی ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت واپس لائی جا سکے؛ اہلخانہ نے تاخیر اور انشورنس کے معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت نے بتایا ہے کہ موسمی حالات بہتر ہونے پر منگل 25 اگست کی صبح ریسکیو ٹیم پاکستان کے زیرِ انتظام خطے گلگت بلتستان میں 7,027 میٹر بلند سپنتک چوٹی سے ہلاک ہونے والی ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت واپس لانے کے لیے بیس کیمپ سے روانہ ہو گئی ہے؛ اہلخانہ نے میت کی واپسی میں تاخیر اور لاگت کے مطالبات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) کی رپورٹس کے مطابق الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) عرفان ارشد نے کہا ہے کہ ڈاکٹر اسما مشتاق کی موت 20 اگست کو سپنتک چوٹی سے واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر ’ہائی ایلٹیٹیوڈ میڈیکل ایمرجنسی‘ کے باعث ہوئی تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ریسکیو ٹیم ایک بار پھر بیس کیمپ سے روانہ ہو چکی ہے اور کیمپ ٹو کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ٹیم انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور موسمی حالات سازگار رہنے تک تلاش کا آپریشن جاری رہے گا۔

الپائن کلب نے بتایا ہے کہ ابتدائی کوششیں شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث ناکام رہیں، جس کی وجہ سے ریسکیو ٹیمیں پہلے بھی واپس بیس کیمپ لوٹ گئی تھیں۔ میجر جنرل عرفان ارشد کے مطابق پاکستانی فوج نے درخواست پر ہمدردی کی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن کی منظوری دے رکھی ہے، مگر کارروائی کا انحصار موسم پر ہے۔

ڈاکٹر اسما کے اہلخانہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن میں تاخیر اور بعد ازاں میت کی واپسی کے طریقہ کار کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ ان سے میت واپس لانے کے لیے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا گیا، جس نے میڈیا کی توجہ اس کیس کی جانب مبذول کرائی۔

مسئلہ اس لیے بھی پیچیدہ ہو گیا کہ الپائن کلب کے مطابق مہم کے آغاز سے قبل ریسکیو سروس انشورنس لازمی ہوتی ہے، جو اس صورتِ حال میں ہیلی کاپٹر اور امدادی افراد کے معاوضوں کا بندوبست کرتی ہے۔ مہم چلانے والی ٹور کمپنی قراقرم کالنگ کے ترجمان یوسف نے دعویٰ کیا کہ انشورنس کروائی گئی تھی، تاہم بی بی سی کے جائزے سے معلوم ہوا کہ فراہم کی گئی دستاویزات محض گروپ کی لائف انشورنس تھیں نہ کہ ریسکیو سروس انشورنس، اور وہ ریسکیو خرچ اٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔

قراقرم کالنگ کا کہنا تھا کہ لائف انشورنس کی رقم وارث حاصل کر سکتے ہیں مگر اُس کے ادائیگی تک کم از کم دو ماہ لگ سکتے ہیں۔

برطانوی صحت عامہ کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق ہائی ایلٹیٹیوڈ سِیکنیس کی علامات عموماً بلند مقام پر پہنچنے کے 6 سے 10 گھنٹے بعد ظاہر ہوتی ہیں اور علاج میں سٹیرائڈز، بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات اور مصنوعی آکسیجن شامل ہو سکتی ہیں۔

گائیڈ اکبر علی نے کوشش کی کہ فوری طبی امداد فراہم کی جائے مگر ڈاکٹر اسما بچ نہ سکیں۔ الپائن کلب نے کہا ہے کہ اگر گائیڈ، ہائی ایلٹیٹیوڈ عملہ یا ٹور کمپنی نے طبی خرابی کی علامات محسوس کیں تو بروقت واپس لانے کی کوشش کی جانی چاہیے تھی، اور معاملے کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519