لاہور (خصوصی رپورٹ) سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت سوچ سمجھ کر لانگ مارچ پر نکلے ہیں اور انہیں عدالتی سزا، گرفتاری یا صوبائی حکومت کے ختم ہونے کے خطرات کا ادراک ہے، اس لیے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف مذاکرات کے دروازے بند نہ رکھیں۔
سہیل آفریدی کے بارے میں تحریر کیے گئے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں کسی عدالت سے سزا دلوا کر نااہل قرار دلایا جا سکتا ہے اور گرفتاری بھی ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ ان کے خلاف حالات اس حد تک جا سکتے ہیں کہ صوبائی حکومت ختم بھی ہو جائے۔
مصادر نے بتایا ہے کہ انہی خطرات کے باوجود آفریدی نے لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا کیونکہ وہ صورتحال کے سنگین نتائج سے آگاہ ہیں۔ نوٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حالات خراب ہونے کی صورت میں نقصان صرف سہیل آفریدی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے ملک یا سب فریقین متاثر ہوں گے۔
اسی تناظر میں تحریر میں سخت انداز میں اپیل کی گئی ہے کہ حکومتی حلقے اور پاکستان تحریکِ انصاف مذاکرات کے دروازے بند نہ کریں تاکہ کشیدگی اور ممکنہ سیاسی بحران روکا جا سکے۔
ذرائع کے الفاظ میں یہ انتباہ بھی شامل ہے کہ تناؤ کی صورت میں قانونی و سیاسی نتائج وسیع پیمانے پر اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے بات چیت کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
اب تک اصل پیغام میں تفصیلی منصوبہ بندی، تاریخی حوالہ جات یا شیڈول کا ذکر موجود نہیں، اور یہ بیان بنیادی طور پر ایک انتباہ اور مذاکرات کی اپیل پر مبنی ہے۔




