(بی بی سی اردو) امریکہ کی ریاست مین کے ایک فارم پر 13 برس تک 500 سے زیادہ کتوں پر کیے گئے تحقیقی تجربے میں محققین نے ایک غیرمعمولی ذہین یا ’سپر کتا‘ پیدا کرنے کی کوشش کی، جسے 632,000 ڈالر کی مالی معاونت دی گئی اور ہر کتے کی پیدائش سے لے کر ابتدائی مراحل تک تفصیلی ریکارڈنگ کی گئی۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق 1940 کی دہائی کے اواخر میں امریکہ کے ایک بڑے تحقیقی منصوبے میں 13 برس تک 500 سے زیادہ کتوں کا مطالعہ کیا گیا۔ اس تجربے کے لیے ریاستِ مین کے ایک فارم پر ایک تحقیقاتی تنصیب قائم کی گئی جہاں مختلف نسلوں بشمول کاکر سپینیئل، بیگل، شیٹ لینڈ شیپ ڈاگ، باسنجی اور وائر ہیئرڈ فاکس ٹیریئر کے کتے رکھے گئے۔
محققین نے ہر کتے کی پیدائش سے لے کر ابتدائی نشوونما کے ہر مرحلے کا سختی سے ریکارڈ رکھا — جب وہ پہلی بار چونکے، پہلی مرتبہ ٹھوس غذا کھانے کی کوشش، بہن بھائیوں کے ساتھ کھیل میں لڑائی، اور پہلی مرتبہ دم ہلانے جیسے واقعات نوٹ کیے گئے۔ پانچ ہفتے کی عمر میں ان کتوں کے ذہانت، غلبہ پسند رویے، جذباتی ردعمل اور تربیت لینے کی صلاحیت سمیت متعدد ٹیسٹ لیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کو 632,000 ڈالر (465,000 پاؤنڈ) کی معاونت ملی، جو اُس دور کے لیے قابلِ ذکر رقم تھی اور آج کی قیمت میں اس کی قدر کہیں زیادہ ہے۔ منصوبے کے سرکردہ محققین میں جان فلر اور جان پال سکاٹ شامل تھے، جن کا مقصد کتوں کی جینیات اور رویوں کے باہمی تعلق کو سمجھنا تھا اور آخر کار یہ جاننا بھی تھا کہ کیا جینیات کی بنیاد پر ایک غیرمعمولی ذہین ’سپر کتا‘ تخلیق کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ اس تجربے کے وسیع دائرۂ کار اور اس کے سائنسی و اخلاقی مضمرات دونوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ اسی دور میں یوجینکس کے نظریات بھی زیرِ بحث تھے اور پروجیکٹ کے پیچھے کچھ فکری رجحانات نے انسانی رویوں اور جینیاتی شرحوں کے تعلق کے بارے میں سوالات کو ہوا دی۔ بی بی سی کے مضمون کے مطابق اس تجربے کے نتائج نے کتوں کے بارے میں سائنسدانوں کی سمجھ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا اور ساتھ ہی نسلی بہتری کے نظریے کے خلاف بھی ایک فیصلہ کن مؤقف قائم کرنے میں مدد دی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے بڑے پیمانے کے تحقیقی منصوبوں کے لیے اس قسم کی فنڈنگ اور آزادی اُس دور کا حصہ تھی، جو آج کے معیارات اور اخلاقی ضوابط کے تحت شاذ و نادر ہی ممکن ہو گی۔




