لاہور (ویب ڈیسک) ترکی کی حکومت نے مکہ دفاعی معاہدے کا 16 شقوں پر مشتمل متن 20 اکتوبر کو توثیق کے لیے پارلیمان میں جمع کروایا ہے، جب کہ سعودی عرب اور پاکستان نے اب تک معاہدے کا کوئی متن جاری نہیں کیا۔
ترکی کی حکومت نے مکہ دفاعی معاہدے کا مکمل متن پارلیمان میں جمع کروایا ہے، جس میں دفاع، انٹیلیجنس تعاون، لاجسٹک معاونت اور دفاعی صنعت میں مشترکہ کام سمیت متعدد شقیں شامل ہیں۔ بی بی سی مانیٹرنگ کے حوالے سے شائع کردہ متن کے مطابق معاہدہ 16 شقوں پر مشتمل ہے اور اسے 20 اکتوبر کو توثیق کے لیے پارلیمان میں پیش کیا گیا۔
پارلیمانی کارروائی کے بعد ترکی کے بڑے نیوز چینل این ٹی وی کے مطابق اب معاہدے کو آئندہ چند روز میں پارلیمان کی خارجہ اُمور سے متعلق کمیٹی کے پاس بھیجے جانے کی توقع ہے۔ بی بی سی کے نوٹس کے مطابق ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ہبر نے معاہدے کا مکمل متن شائع کیا۔
متن کی ابتدائی شقوں میں فریقین کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کا ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر کسی فریق پر بیرونی مسلح حملہ ہو تو وہ تمام فریقین کے خلاف حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ ایک اور شق کے مطابق فریقین دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مضبوط کریں گے اور دفاعی اداروں کے بدلے عملے کے تبادلے، مشترکہ تربیتی پروگرام اور مشقیں بڑھائیں گے۔
معاہدے میں ایک ‘سٹریٹیجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی’ قائم کرنے کا بھی بندوبست ہے جس میں وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان شامل ہوں گے۔ اس کمیٹی کے لیے ایک سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا اور سیکرٹری جنرل کا عہدہ تین سالہ مدت کے لیے باری باری منتقل ہوگا، جبکہ متن کے مطابق پہلے سیکرٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا۔
بی بی سی کے متن کے مطابق معاہدے میں انٹیلیجنس معلومات کے محفوظ تبادلے، لاجسٹک امداد بشمول اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی اور دفاعی صنعت میں مشترکہ تحقیق و ترقی کے نکات بھی شامل ہیں۔ اس دستاویز کے منظرعام پر آنے کے بعد ترکی کے میڈیا اور عوامی مباحثے میں معاہدے کی شرائط اور اس کے علاقائی اثرات پر بحث جاری ہے۔
نوٹ: سعودی عرب اور پاکستان کی جانب سے معاہدے کے متن یا تفصیلات کی باضابطہ اشاعت ابھی تک دستیاب نہیں ہے، اور یہ متن ترکی نے پارلیمان میں جمع کرایا ہے۔




