ترکش پیٹرولیم جلد پاکستان کی آبی حدود میں سمندری کھدائی شروع کرے گا، علی پرویز ملک

وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے لاہور میں کہا کہ ترکیش پیٹرولیم جلد پاکستان کی سرحدی آبی حدود میں سمندری کھدائی شروع کرے گا تاکہ تیل و گیس کی گھریلو تلاش تیز کی جا سکے۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ترکش پیٹرولیم جلد پاکستان کی سرحدی آبی حدود میں سمندری کھدائی شروع کرنے والی ہے تاکہ ملکی تیل و گیس کی تلاش تیز ہو کر درآمدی انحصار کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے تاہم اُن کی طرف سے کھدائی کی جگہ، سرمایہ یا متوقع شیڈول کا تفصیلی اعلان نہیں کیا۔

ترکش پیٹرولیم کی جانب سے جلد شروع کیے جانے والے سمندری کھدائی کے منصوبے کا اعلان وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں ملکی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حمایت کریں گی اور درآمدی تیل و گیس پر انحصار کم کرنے میں مدد دیں گی، تاہم مقام، سرمایہ کاری کی مقدار یا کھدائی کے شیڈول کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

علی پرویز ملک نے حکومت کی توانائی سے متعلق صورتحال کی تصویر بھی پیش کی اور بتایا کہ پاکستان تقریباً 90 فیصد توانائی درآمد کرتا ہے جبکہ ملکی خام تیل کی پیداوار روزانہ تقریباً 70 ہزار بیرل ہے جبکہ ضرورت قریباً پانچ لاکھ بیرل ہے۔ اِن اعداد و شمار کے پیشِ نظر حکومت نے گھریلو تیل و گیس تلاش میں تیزی لانے کا عزم ظاہر کیا۔

وزیرِ پیٹرولیم نے یہ بھی کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اور چیف آف دی ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصِم منیر نے ایک بین الاقوامی کمپنی کو پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے وسیع روڈ میپ تیار کرنے کا کام سونپا ہے، اور یہ روڈ میپ آئندہ چند ماہ میں قیادت کو پیش کیا جائے گا۔

مالِک نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے پیٹرولیم سیکٹر میں سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو روک دیا ہے اور سابقہ انتظامیہ سے ورثے میں ملنے والی واجبات کی صفائی پر کام جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے لیے ٹینڈرز سوموار کو کھولے جائیں گے اور نئے گیس کنیکشن جاری کرنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی منڈیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع نے عالمی توانائی منڈیوں میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں اور خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی کا باعث بنے ہیں تاہم حکومت نے بیرونی دباؤ کے باوجود ایندھن کی فراہمی برقرار رکھی اور صارفین پر عالمی قیمتوں کے اثرات کو محدود رکھنے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519