لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسِف) نے کہا ہے کہ پکستان سمیت21 ملکوں میں سرکاری نمائندہ سروئز کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کم و بیش دو کروڑ بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر جنسی استحصال یا بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا، جس میں زیادہ تر واقعات سوشل میڈیا پر ہوئے۔
یونیسف کی نئی رپورٹ کے مطابق افریقہ، ایشیاء، لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ کے 21 ممالک کے قریباً 21 ہزار انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کے سروے کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا کہ 12 سے 17 سال کی عمر کے ہر پانچ میں سے ایک بچے نے کم از کم ایک قسم کی آن لائن جنسی بدسلوکی یا استحصال کا تجربہ کیا۔
رپورٹ نے مختلف نوعیت کے مظالم کے اعداد و شمار بھی دیے ہیں جن کے مطابق تقریباً ڈیڑھ کروڑ بچوں کو ناپسندیدہ جنسی مواد دکھایا گیا، 90 لاکھ بچوں کو جنسی گفتگو یا تصاویر شیئر کرنے پر دباؤ ڈالا گیا جبکہ 40 لاکھ بچوں کی تصویریں بغیر رضامندی کے شیئر کی گئیں۔ یونیسِف نے یہ بھی کہا کہ حقیقی عالمی تعداد اِس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ ادارے کے مطباق قریباً 60 فیصد رپورٹ شدہ واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ہوئے جن میں فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک سرِِ فہرست ہیں جبکہ آن لائن گیمنگ میں 14 فیصد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق نصف سے زائد واقعات میں مظالم کرنے والا کوئی ایسا شخص تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا، جیسا کہ دوست، قریبی رشتہ دار یا رومانی ساتھی جبکہ 38 فیصد بچوں نے پہلا رابطہ آن لائن ہی پر کیا۔
حیران کُن طور پر ایسے کیسوں کی پولیس، سوشل ورکر یا ہیلپ لائن کو اطلاع دینے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی۔ یونیسِف نے کہا کہ یہ خاموشی بچوں کی نفسیاتی صحت کو سنگین طور پر متاثر کرتی ہے، استحصال کا شکار بچوں میں خودکشی کے خیالات یا خود کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی شرح اپنے ہم عمر بچوں کے مقابلے تقریباً چار گنا زیادہ تھی اور اُن میں بے چینی کی شکایات نمایاں طور پر زیادہ تھیں۔
رپورٹ نے اے آئی کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جن نو ممالک میں اِس بارے میں ڈیٹا اکٹھا کیا گیا وہاں 11 لاکھ بچوں نے بتایا کہ اُن کی مصنوعی ذہانت سے جنسی تصاویر یا ویڈیوز بنائی گئی تھیں۔
میٹا، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک نے مختلف بیانات میں کہا کہ اُنہوں نے کم سن صارفین کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات کیے ہیں اور بدعنوانی کے خلاف کوششیں جاری رکھیں گے۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا، ’’یہ تجربات گہرے جذباتی اور ذہنی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ بہت سے بچے خاموشی اختیار کرتے ہیں، اُنہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مدد کہاں سے ملے گی۔‘‘
رپورٹ نے حکومتوں اور ٹیک کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر حفاظتی اقدامات سخت کریں، قوانین کو جدید بنائیں تاکہ نئے طریقوں بشمول اے آئی کی وجہ سے ہونے والے استحصال کا احاطہ ہو سکے اور بچوں کے تحفظ اور رپورٹنگ کے نظام بہتر بنائیں۔ اِس سروے میں چونکہ پاکستان بھی شامل تھا اِس لیے یہ سفارشات پاکستانی حکومت اور ڈیجیٹل کمپنیوں کے لیے بھی براہِ راست متعلقہ حیثیت رکھتی ہیں۔




