(ویب ڈیسک) امریکی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی سے کمی دیکھی گئی اور نیسڈیک نے جون کے بعد اپنا سب سے بڑا روزانہ نقصان ریکارڈ کیا جب اعلیٰ پروفائل ایئرننگ رپورٹس نے اے آئی کے خرچ کے سلسلے میں خدشات کو بڑھا دیا۔
ریئٹرز بزنس کے مطابق امریکی اسٹاک مارکیٹس میں مندی چھائی رہی اور خاص طور پر ٹیک-ہیوی نیسڈیک انڈیکس نے جون کے بعد اپنا سب سے بڑا روزانہ نقصان ریکارڈ کیا۔ آئسورٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کمی متعدد اعلیٰ پروفائل کمپنیوں کی آئندہ کمائی اور اخراجات کے اشاروں کے بعد سامنے آئی، جنہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں بڑھتے ہوئے خرچ کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا۔
ذرائع نے نشاندہی کی کہ منافع کی رپورٹس اور کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی نے سرمایہ کاروں کے جذبات پر اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں مارکیٹس میں تیزی سے فروخت دیکھی گئی۔ ریئٹرز خبر میں یہ بھی شامل ہے کہ مارکیٹوں کے اس ردِعمل کا تعلق مخصوص ادارتی نتائج اور اُن سے وابستہ اخراجات کے اشاروں سے ہے جو اے آئی مقابلہ بازی کی دوڑ کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
ریئٹرز کی اشاعت کی ٹائملائن 2026-10-23 کو درج ہے، لیکن رپورٹ میں مفصل فیصد یا قیمتوں کی تفصیلات شامل نہیں تھیں۔ خبر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حالیہ کمپنی رپورٹس نے سرمایہ کاروں میں اے آئی کے خرچ بڑھنے کے خدشات کو تازہ کیا، جس نے امریکی شیئر مارکیٹس میں مندی کو ہوا دی۔




