وائٹل سائنز: ختم ہونے کے 26 سال بعد بھی اسلام آباد کنسرٹ میں شائقین نے گانے لفظ بہ لفظ گائے

اسلام آباد کے لوک ورثہ میں حالیہ کنسرٹ میں وائٹل سائنز کے گیتوں پر سامعین نے لفظ بہ لفظ ساتھ گایا، اور 25 تا 30 سال کی نوجوان نسل بھی انہی گانوں سے واقف دکھائی دی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے لوک ورثہ میں حال ہی میں ہونے والے کنسرٹ میں وائٹل سائنز کے گانے نوجوان نسل تک پہنچنے کی تصدیق ہوئے، جب گلوکار رضوان الحق نے کہا کہ ہال میں موجود تقریباً ہر شخص ‘وائٹل سائنز’ کے گانوں کے بول لفظ بہ لفظ جانتا تھا؛ ساتھ موجود نوجوان 25 تا 30 سال کی عمر کے بھی ان گانوں سے بخوبی واقف تھے۔

اسلام آباد کے لوک ورثہ میں حال ہی میں منعقدہ کنسرٹ میں وائٹل سائنز کے گیتوں پر سامعین کی یکسوئی نے اس بات کی غمازی کی کہ بینڈ کی موسیقی اٹھتے بیٹھتے نسلوں تک پہنچ چکی ہے۔ گلوکار و موسیقار رضوان الحق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ سٹیج پر صرف ایک اکوسٹک گٹار لے کر گئے تھے، مگر ہال میں موجود تقریباً ہر شخص گانوں کے بول لفظ بہ لفظ جان رہا تھا اور شروع سے آخر تک ان کے ساتھ گا رہا تھا۔

رضوان الحق نے مزید کہا کہ کانسرٹ میں حاضر شائقین کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے جن کی عمریں 25 سے 30 سال کے درمیان تھیں اور وہ بھی انہی گانوں سے اتنی ہی واقفیت رکھتے تھے، جسے رضوان نے حیران کن قرار دیا۔ یہ منظر اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ وائٹل سائنز کے گیت محض نوسٹالجیا نہیں بلکہ پاکستانی پاپ موسیقی میں ایک پائیدار معیار بن چکے ہیں۔

وائٹل سائنز کی شروعات 1985 میں ہوئی تھی جب چند نوجوان دوستوں نے مل کر بینڈ تشکیل دیا۔ بینڈ کا پہلا گانا ‘چہرہ میرا تھا’ 1986 میں پی ٹی وی پر نشر ہوا اور اس کے ایک سال بعد ‘دل دل پاکستان’ نے انہیں ملک گیر شہرت دلائی۔ گروپ نے 1989 سے 1995 کے دوران وقفے وقفے سے چار البمز جاری کیے جن میں متعدد مقبول گانے شامل تھے۔

بینڈ کے مستقل رکن جنید جمشید اور غیر مستقل رکن عامر ذکی اب اس دنیا میں نہیں رہے، تاہم ان کے گانے ‘دل دل پاکستان’، ‘گورے رنگ کا زمانہ’، ‘سانولی سلونی’ اور ‘اعتبار’ آج بھی نئی نسلوں تک پہنچ رہے ہیں۔ وائٹل سائنز کے بانی ممبران میں شہزاد شاہی حسن، روحیل حیات اور نصرت حسین کے نام شامل ہیں، اور شعیب منصور نے بینڈ کے لیے میوزک ویڈیوز بنوا کر ان کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔

کانسرٹ میں سامعین کی بھرپور شمولیت اور مختلف عمر کے لوگوں کی یکساں واقفیت اس بات کی واضح مثال ہے کہ وائٹل سائنز کی دھنیں اور بول پاکستانی ثقافتی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1514