واشنگٹن پوسٹ: ایف ڈی اے غیر ملکی تازہ پیداوار برآمد کرنے والی فیکٹریوں کا شاذ و نادر معائنہ کرتا ہے، خوراکی تحفظ میں بڑا خلاء

واشنگٹن پوسٹ کی تفتیش کے مطابق ایف ڈی اے شاذ و نادر ہی اُن غیر ملکی سہولیات کا معائنہ کرتا ہے جو امریکہ کو بیشتر تازہ سبزیاں اور پھل برآمد کرتی ہیں، جس سے خوراکی تحفظ میں بڑا خلاء پیدا ہوا ہے۔

(ویب ڈیسک) واشنگٹن پوسٹ کی تفتیش کے مطابق ایف ڈی اے شاذ و نادر ہی اُن غیر ملکی سہولیات کا معائنہ کرتا ہے جو امریکہ کو بیشتر تازہ سبزیاں اور پھل ایکسپورٹ کرتی ہیں، جس سے امریکی خوراکی تحفظ میں بڑا بلائنڈ اسپاٹ پیدا ہو رہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک تفتیشی رپورٹ کے مطابق امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) اکثر غیر ملکی فیکٹریوں یا سہولیات کا باقاعدہ معائنہ نہیں کرتی جو زیادہ تر تازہ پیداوار امریکہ کو برآمد کرتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معائنوں کی کمی نے امریکی خوراکی حفاظت کے نظام میں ایک واضح خلا پیدا کیا ہے، کیونکہ زیادہ تر تازہ سبزیاں اور پھل بیرون ملک تیار ہو کر امریکی منڈی میں آتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی تفتیش کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا ہے کہ یہ منظرنامہ خوراکی خطرات کا امکان بڑھا سکتا ہے کیونکہ بیرون ملک تیار شدہ پیداوار کے معیار اور حفظانِ صحت کی نگرانی کمزور رہتی ہے۔

رپورٹ میں ایف ڈی اے کے معائنوں کے معمول، بیرون ملک سہولیات تک رسائی اور ان معائنوں کے دائرہ کار پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس سے امریکی صارفین کے لیے خوراکی خطرات کا پتہ چلانے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی یہ تفتیش اس دعوے کو سامنے لاتی ہے کہ بیرون ملک تیار شدہ زیادہ تر تازہ پیداوار کی برآمد کے باوجود متعلقہ سہولیات کے مستقل اور جامع معائنے نہ ہونے سے ریاستہائے متحدہ کا خوراکی تحفظ ایک بڑے خلاء کا شکار ہے۔

اخبار کی تفصیلات اور دستاویزی شواہد اسی تفتیشی مضمون میں شامل ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2750