عموماً 17 سے 21 سال کی عمر میں نکلنے والی عقل داڑھیں منہ کے بالکل پچھلے حصے میں ابھرتی ہیں، مگر جب وہاں جگہ کم ہو تو یہ پھن کر درد، سوزش اور دیگر مسائل پیدا کر سکتی ہیں، اور بہت سے لوگوں میں چاروں دانت بھی موجود نہیں ہوتے۔
عقل داڑھیں، جو مقامی زبانوں میں عام طور پر ’عقل داڑھ‘ کہلاتی ہیں اور طبی اصطلاح میں ’تھرڈ مولر‘ یا تیسری داڑھ کہی جاتی ہیں، عموماً نوعمری کے آخری برسوں یا جوانی کے آغاز میں نکلنا شروع ہوتی ہیں۔ امریکن ڈینٹل ایسوسی ایشن کے مطابق یہ عمل عموماً 17 سے 21 سال کی عمر کے درمیان شروع ہوتا ہے، جبکہ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ 25 سال تک نکل سکتی ہیں۔
یہ دانت منہ کی قطار میں سب سے آخر میں واقع ہوتے ہیں: ہر جبڑے کے دونوں کونوں پر ایک، ایک کر کے مجموعی طور پر چار ہو سکتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ ہر فرد میں چار موجود ہوں۔ درحقیقت، ہر 10 افراد میں تقریباً آٹھ کے ہاں کم از کم ایک عقل داڑھ نہیں نکلتی۔
بنیادی مسئلہ جگہ کی کمی ہے۔ چونکہ عقل داڑھ مسوڑھوں کے بالکل آخری حصے میں نکلتی ہے، اگر وہاں دانت کے نکلنے کے لیے کافی جگہ موجود نہ ہو تو یہ ساتھ والے دانت کی طرف جھک سکتی ہے یا جزوی یا مکمل طور پر مسوڑھے یا جبڑے کی ہڈی میں پھنسی رہ سکتی ہے۔ ایسی ’پھنسی ہوئی‘ یا امپیکٹڈ عقل داڑھ کے گرد خوراک اور بیکٹیریا جمع ہونے سے مسوڑھوں میں سوزش یا انفیکشن، پیریکورونائٹس، اور بالآخر کیڑا، سسٹ یا ایبسس تک بن سکتا ہے۔
یہ مسائل صرف درد تک محدود نہیں رہتے؛ مایو کلینک کے مطابق امپیکٹڈ دانت ساتھ والے دانتوں کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں، مسوڑھے سوج سکتے ہیں اور منھ کھولنے یا چبانے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ عقل داڑھ اس لیے موجود تھیں کیونکہ قدیم غذا میں سخت اجزاء زیادہ تھے اور انہیں چبانے میں یہ دانت مدد دیتے تھے، تاہم غذائی عادات میں تبدیلیوں اور جبڑوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے آج یہ اکثر غیر ضروری رہ گئے ہیں۔
اگر عقل داڑھ مناسب جگہ کے ساتھ معمول کے مطابق نکلیں تو عام طور پر مسئلہ پیدا نہیں ہوتا اور ہلکی سی بے آرامی معمول کی بات ہو سکتی ہے؛ تاہم جب وہ پھنسی یا جزوی طور پر خارج ہوں تو صفائی مشکل ہونے، سوزش اور انفیکشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ طبی فیصلہ اور کوئی علاج لازم ہو تو دانت کے معائنے اور ایکس رے کے بعد ہی کیا جاتا ہے۔




