لاہور (سٹاف رپورٹر) اگرچہ پاکستانی خواتین اعلیٰ تعلیم میں مردوں کے قریب پہنچ گئی ہیں، مگر روزگار میں ان کی شمولیت بہت کم ہے: گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2026 میں پاکستان کا مجموعی اسکور 59.5 فیصد اور معاشی شرکت کا اسکور 36.4 فیصد ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم میں خواتین کا داخلہ 10.71 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں اسکول اور یونیورسٹی کے درجے عبور کرنے والی خواتین ملازمت کے میدان میں بڑے پیمانے پر پیچھے رہ جاتی ہیں۔ ڈی ڈبلیو اردو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی ماؤں باپ، ماہرین اور خود خواتین ملازمت اختیار نہ کرنے کی وجوہات میں سماجی رویوں اور روزگار کے محدود مواقع کو اہم قرار دیتے ہیں۔
فوزیہ رزاق مثال ہیں جو بی ایس ریاضی کے بعد اپنی بہن کے ساتھ ایک پریایویٹ اسکول میں پڑھا رہی ہیں اور دونوں کو ماہانہ 15000، 15000 روپے تنخواہ ملتی ہے۔ ان کے والد رانا عبدالرزاق نے بتایا کہ ‘‘یہ تنخواہ بھی ایسے ادارے سے مل رہی ہے جس کی فنڈنگ سرکاری سطح پر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں خواتین کے لیے ملازمت کرنے اور گھر سے باہر نکلنے میں کیا کشش رہ جاتی ہے؟’’
ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنان کہتے ہیں کہ مسئلہ محض تعلیم کا فقدان نہیں بلکہ گھر داری، مردوں کے ساتھ براہِ راست میل جول، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر شک نگاہیں بھی ہیں۔ مہناز رحمان کہتی ہیں کہ ‘‘اچھی خاصی یونیورسٹی میں پڑھنے والی بچیاں گھر آ کر موبائل کو کم سے کم استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ ہائی لائٹ نہ ہوں۔’’ اسی طرح بعض شعبوں میں مردوں کے ساتھ رابطے کی توقع بھی خاندانوں کو بیٹیوں کی ملازمت پر تیار نہیں کرتی۔
اقتصادی ڈھانچے کا ضعف بھی ایک اہم عنصر ہے۔ ڈاکٹر حنا احسن کے مطابق اگر کسی خاتون کی ملازمت گھر کی معاشی حالت میں واضح بہتری نہ لے آئے تو سماجی دباؤ کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے؛ یوں مجموعی معاشی بدحالی خواتین کی شمولیت کو مزید محدود کرتی ہے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار واضح ہیں: گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2026 میں پاکستان 145 ممالک میں مجموعی طور پر 143ویں نمبر پر رہا، جبکہ معاشی شرکت کے ذیلی اشاریے میں 144ویں نمبر پر ہے۔ اس کے مقابلے میں تعلیم کے شعبے میں پاکستان نے ایک دہائی میں نمایاں ترقی کر کے 130ویں نمبر پر پہنچا اور اعلیٰ تعلیم میں داخلے کا تناسب مردوں کے قریب آ گیا ہے (خواتین 10.71 فیصد، مرد 11.01 فیصد)۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سماجی رویوں میں تبدیلی، محفوظ اور باعزم روزگار کے مواقع پیدا کرنا، اور اجرتی تحفظ خواتین کو تعلیم کے بعد باعزت روزگار تک پہنچانے کے لیے ضروری ہوں گے۔




