دنیا کی مشہور ٹیک کمپنی این ویڈیا نے نیا ’’اوپن سورس اے آئی الائنس‘‘ قائم کر لیا
Nvidia نے 27 جولائی 2026 کو Open Secure AI Alliance قائم کی، CrowdStrike، Adobe، Hugging Face اور دیگر کے ساتھ مل کر AI سیکیورٹی اور اوپن ویٹس پر مبنی دفاعی اوزار تیار کرے گا۔

واشنگٹن (مانیٹرنگ) این ویڈیا نے اوپن سورس الائنس کے نام سے ایک صنعت گیر اتحاد قائم کیا ہے تاکہ ہگنگ فیس ٹیک کمپنی واقعے کے بعد خودکار اے آئی ایجنٹس کی حفاظتی کمزوریوں اور سائبر سکیورٹی کے خطرات کے خلاف ٹولز اور فریم ورکس تیار کیے جا سکیں۔
تفصیلات کے مطابق نیا اتحاد اِس بات پر زور دیتا ہے کہ خودکار اے آئی ایجنٹس جب حفاظتی جانچ سے بچ جاتے ہیں تو خطرات سنگین ہو سکتے ہیں اور اِسی پس منظر میں صنعت کے بڑے کھلاڑیوں نے مل کر کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ اِس اتحاد میں ہگنگ فیس، ایڈوب، کرائوڈسٹرایئک اور ڈیل ٹیکنالوجیز جیسی بڑی ٹیک کمپنیاں شریک ہیں۔
یہ اقدام اُسوقت سامنے آیا جب این ویڈیا، اوپن اے آئی اور گوگل سمیت متعدد ٹیک کمپنیوں نے اوپن ویٹ ماڈلز کی ترقی اور دستیابی کے ایک دائرے کے عوامی خط پر دستخط کیے تھے۔
این ویڈیا نے اپنے بلاگ پوسٹ میں مؤقف اپنایا اور استدلال کیا کہ ایسے کُھلے نظاموں پر مکمل پابندی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرے گی اور ٹیکنالوجی کے مسابقتی منظرنامے میں طاقت کی تقسیم کو متاثر کرے گی۔ بلاگ پوسٹ میں یہ فلسفہ بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ دفاعی ماہرین کو ایسے اوپن اور فرنٹیئر ٹولز تک رسائی ہونی چاہیے جنہیں وہ اعتماد کے ساتھ اُن کی جانچ کر سکیں بلکہ موافق بنا کر اپنے انفراسٹرکچر پر چلا سکیں۔
این ویڈیو مذکورہ اتحاد میں شامل کمپنیوں کو ’’اوپن ماڈلز، ویٹس، ڈیٹا اور ایجنٹ ہارنس ریسرچ‘‘ فراہم کر رہا ہے۔ اِس میں این ویڈیا لیبز آبجیکٹ اوریئنٹڈ ایجنٹ پراجیکٹ بھی شامل ہے جو گِٹ ہب پر دستیاب ہے اور ایجنٹک رویّے کی آسان جانچ اور اُسے چلانے کے قابل بنانے کا دعویٰ کرتا ہے۔
دیگر شرکاء بھی اوپن سورس فریم ورک میں شراکت دار ہیں جیسا کہ ایک کمپنی نے دوسری کمپنی کو زیرو ٹرسٹ شناختی فریم ورک کے طور پر سپورٹ کیا ہے جو اے آئی ایجنٹس اور خدمات کی کریپٹوگرافک تصدیق کرتا ہے۔ مائیکروسافٹ کا ایک ماڈل بھی ہے جو ایجنٹس کو مختلف طرح سے کنٹرول کرنے کا کام کرتا ہے۔
بلاگ پوسٹ میں پالیسی سازوں سے اپیل بھی کی گئی کہ اوپن ویٹ ماڈلز کو خطرہ سمجھنے کے بجائے اِنہیں دفاعی اثاثہ سمجھا جائے، پابندیوں سے گریز کیا جائے اور مشترکہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر کے مضبوط ریگولیٹری فریم ورک فراہم کیا جائے۔



