لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور یونیورسٹی آف منیجمینٹ سائنسز (لمز) ایشیئن سٹڈیز کی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کانفرنس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایسوسی ایشن فار ایشیئن سٹڈیز (اے اے ایس) کی سالانہ مرکزی تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں منعقد ہو رہی ہے جس کی میزبانی لمز کرے گا جبکہ اِس 37 سے زائد ممالک کے ایک ہزار سے زائد نمائندے اِس میں شرکت کریں گے۔
کانفرنس کا موضوع ’’سینٹرنگ ایشیاء: ری فگرنگ کنیکشنز، ری چارٹنگ فیوچرز‘‘ رکھا گیا ہے اِس میں دنیا بھر کیاہم جامعات کے نمائندے اور محقق شریک ہوں گے۔
اِس سے پہلئ یہ کانفرنس جنوبی کوریا، انڈونیشیاء، نیپال، جاپان اور بھارت میں ہو چکی ہے تاہم پاکستان کو پہلی بار اِس کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا ہے جسے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں ایشیئن سٹڈیز کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کجرنے کیلئے تاریخ، پولیٹیکل سائنس، انتھراپولوجی، لٹریچر، اکنامکس اور آرٹس کے شعبوں پر سیر ح۔ اصل گفتگو کی جائے گی ۔ پاکستانی محققین کے لیے یہ ایک نایاب موقع ہو گا کہ وہ اپنا تحقیقی کام بین الاقوامی منظرنامے پر پیش کریں اور عالمی سطح کے اکیڈمک نیٹ ورکس سے رابطہ قائم کریں۔
اِس مقصد کےلیے اے اے ایس (آس) نے سکالر سپورٹ فنڈ بھی قائم کیا ہے تاکہ نہ صرف بڑے شہروں کےملک بھر کے محققین کانفرنس میں شامل ہو سکیں۔ آس اور لمز کے درمیان یہ کانفرنس طویل مشاورت اور تعاون کا نتیجہ ہے۔




