طاقتور ترین فوج کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ ایران جنگ میں پھنسے نظر آتے ہیں، نیویارک ٹائمز
نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف 28 فروری سے جاری کارروائیوں کے پانچ ماہ بعد بھی اپنے اہداف حاصل نہ کر پائے اور وہ جنگ سے نکلنے کا واضح راستہ تلاش نہیں کر سکتے۔

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع کی گئی جنگی کارروائیوں کے پانچ ماہ بعد بھی اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے اور اب تو وہ اِس تنازعے سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ تلاش نہیں کر پا رہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے سامنے فوجی کشیدگی بڑھانے، معاشی دباؤ تیز کرنے یا فتح کا اعلان کر کے پیچھے ہٹنے کے تین راستے ہیں تاہم ہر ایک مختلف وجوہات کی بنا پر ناقابلِ قبول ہے۔
صدر ٹرمپ کے ایران کے جوہری پروگرام کو فوری ختم کرنے اور حکومت کا تختہ الٹنے جیسے اہداف تھے تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود یہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے اور اب اُن کے نزدیک تنازعے میں داخل ہونے کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر سمجھتے تھے کہ اُن کے اختیارات کی کوئی حد نہیں لیکن اب انہیں کئی حدود کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث وہ مزید مایوس اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں،وہ فتح کی حکمت عملی کے بغیر تنازعے میں داخل ہوئے تھے اور اب وہ عزت بچاتے ہوئے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں جو اُن کے پاس نہیں ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران میں بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے اشارے دئیے گئے مگر جمعے کو اِس سے پیچھے ہٹ گئے۔ اخباری تجزیے کے مطابق اُن کی اصل ہچکچاہٹ اِس بات کی وجہ سےبھی ہو سکتی ہے کہ اِس جنگ نے امریکی میزائل شکن نظام کے ذخائر کو کم کر دیا ہے۔
اخبار حوالہ دیتا ہے کہ 13 مسلسل راتوں کے حملوں اور جوابی حملوں کے بعد بعض عہدیداروں کے مطابق یہ تعداد انتہائی کم سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ اپنے مشیروں کے خدشات کے بعد ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا منصوبہ روک دیا، خدشات میں یہ بھی شامل تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں فضائی دفاعی گولہ بارود کے ذخائر خطرناک حد تک ختم ہوسکتے ہیں۔
اخبار یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ اُس نے اپریل کے آخر میں بتایا تھا کہ جنگ کے دوران پینٹاگون 1,200 سے زیادہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل استعمال کر چکا ہے جن میں سے ہر ایک کی قیمت 40 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔



