مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ٹیکس اصلاحات کے نفاذ سے ایف بی آر کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا، وزیرِ خزانہ

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اب عملی نفاذ میں ہیں، اے آئی نے 840 ہائی رسک آڈٹ کیسز اور اربوں روپے کی اضافی آمدنی کی نشاندہی کی ہے، اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کئی صنعتوں تک پھیل رہی ہے۔

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرِِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی ٹیکس اصلاحات مکمل نفاذ کی مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے نظام ٹیکس بیس کو بڑھا رہے ہیں، انسانی صوابدید کم کر رہے ہیں جس سے 840 ہائی رسک آڈٹ کیسوں کی نشاندہی کر کے مزید قریباً 34 ارب روپے اکھٹے کیے جا سکیں گے۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (لمز) میں ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ قومی ٹیکس نظام کی جامع اصلاحات منصوبہ بندی کے مرحلے سے نکل کر عملی نفاذ میں آ چکی ہیں اور اے آئی ٹولز سے خاطر خواہ نتائج مل رہے ہیں۔ اُنہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت کا تصور واضح ہے، ’’دستاویزی معیشت، ڈیجیٹل طور پر مربوط ریاست اور ایسے ادارے جہاں ٹیکنالوجی صوابدید کی جگہ لے۔‘‘

اورنگزیب نے بتایا کہ پارلیمان نے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے لیے نیا آپریٹنگ ماڈل منظور کیا ہے جس کے تحت فردِ واحد کے ہاتھ میں اختیارات کا ارتکاز ختم کیا جائے گا اور نفاذ زیادہ تر اے آئی، ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ چار سیکٹروں میں فعال ہے جبکہ مزید 16 سیکٹروں میں نافذ یا نفاذ کے لیے تیار کی جا رہی ہے جو پاکستان کی مینوفیکچرنگ جی ڈی پی کا قریباً 70 فیصد حصہ بنتے ہیں۔ شُگر سیکٹر میں مانیٹرڈ پروڈکشن حالیہ کراشنگ سیزن کے دوران 31 فیصد بڑھی جس سے کم و بیش 27 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے جبکہ سیمنٹ سیکٹر سے 32 ارب روپے برآمد کیے گئے۔

وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ ایف بی آر کے اے آئی پاورڈ رسک انجن نے 840 ہائی رسک آڈٹ کیسوں کی نشاندہی کی ہے جن میں اضافی آمدنی کا اندازہ قریباً 34 ارب روپے ہے جو ٹیکس دہندگان کے ریکارڈز کو قومی شناختی ڈیٹا کے ساتھ ملا کر طرزِ زندگی اور ظاہر کی گئی آمدن کے درمیان فرق معلوم کرنے سے اخذ کیا گیا۔

اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ بے چہرہ کسٹمز اسیسمنٹس نے کنسائمنٹس کی اوسط ظاہر شدہ ویلیو کو 63 سے بڑھا کر 78 لاکھ روپے کر دیا ہے جبکہ ٹیکس افسروں اور کاروباروں کے براہِ راست رابطے کو نمایاں طور پر کم کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 24-2023ء کی ٹیکس وصولی 9.3 کھرب روپے تھی جو سے بڑھ کر گزشتہ مالی سال میں 13 کھرب روپے ہو گئی یعنی دو سالوں میں اِس میں قریباً 40 فیصد اضافہ ہوا، ٹیکس اصلاحات کا مقصد ایماندار ٹیکس گزاروں کے لیے عمل آسان بنانا اور انفرادی صوابدید کی بجائے ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف ادارے قائم کرنا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 46