امریکی فیڈرل ریزرو نے اپنی ہدف شرح سود کو 25 بنیاد پوائنٹس بڑھا کر 3.75-4 فیصد کے رینج تک پہنچا دیا—یہ جولائی 2023 کے بعد پہلی بار شرح سود میں اضافہ ہے—یہ فیصلہ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم سی) کی 15-16 ستمبر کی میٹنگ میں کیا گیا، جس میں افراطِ زر کو 2 فیصد کے ہدف سے اوپر قرار دیا گیا۔
امریکی فیڈرل ریزرو نے اپنے بینچ مارک شرحِ سود میں 25 بنیاد پوائنٹس کا اضافہ کر کے اب اسے 3.75-4 فیصد کے ہدفی رینج پر پہنچا دیا ہے۔ ماخذ کے مطابق یہ اضافہ جولائی 2023 کے بعد پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم سی) کی 15-16 ستمبر کی میٹنگ کے بعد آیا، جہاں یہ نتیجہ نکالا گیا کہ افراطِ زر ابھی بھی فیڈ کے 2 فیصد ہدف سے بلند ہے اور مجموعی اقتصادی حالات نگران ہیں۔
فیڈ کی تازہ پیش گوئیاں یہ اشارہ بھی دیتی ہیں کہ 2026 کے آخر تک مزید 25 بنیاد پوائنٹس کا ایک اور اضافہ ممکن ہے، تاہم مستقبل کے فیصلے آنے والے معاشی اعداد و شمار پر منحصر رہیں گے۔
ماخذ نے نوٹ کیا ہے کہ 2025 میں جب افراطِ زر نرم ہوا تھا تو فیڈ نے شرحِ سود میں کمی کی تھی، اور موجودہ اقدام اس کمی کو جزوی طور پر الٹ رہا ہے۔ مزید برآں، امریکی شرحِ سود میں اضافہ عالمی قرض لینے کی لاگت بڑھا سکتا ہے اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس کی کرنسیوں اور سرمایہ کے بہاؤ پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ماخذ نے ایران میں جنگ کو بھی ایسے عناصر میں شمار کیا ہے جنہوں نے امریکی معیشت کی حمایت کرنے والی کلیدی شقوں پر دباؤ ڈالا ہے۔
رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ آئندہ پالیسی کے بارے میں حتمی فیصلے اقتصادی ڈیٹا کے مطابق کیے جائیں گے، اور کمیٹی کے ووٹنگ ممبران نے اس اضافے کو منظوری دی۔




