پنجاب کا فیصلہ: 43 شہروں میں پولیس کو باڈی کیمرے، شفافیت مگر نفاذ کے خطرات

پنجاب نے پولیس میں جسم پر پہنے جانے والے کیمرے 43 شہروں میں سیف سٹی نیٹ ورکس کے ذریعے متعارف کروانے کا فیصلہ کیا؛ مگر ماخذ نفاذ، تربیت اور ریکارڈنگ کے ضوابط پر خدشات ظاہر کرتا ہے۔

پنجاب نے پولیس اہلکاروں کو جسم پر پہنے جانے والے کیمرے 43 شہروں میں ان کے متعلقہ سیف سٹی نیٹ ورکس کے تحت متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں براہِ راست نگرانی اور چہرہ کی شناخت جیسی خصوصیات شامل ہیں۔ مگر ماخذ خبردار کرتا ہے کہ کیمرے بند کر دینے یا غلط بہانہ بازی نفاذ کو ناکام بنا سکتی ہے، اس لیے سخت تربیت، بہتر سازوسامان اور جرمانے ضروری ہیں۔

پنجاب کی جانب سے پولیس کو جسم پر پہنے جانے والے کیمروں سے لیس کرنے کا اعلان شفافیت کے اعتبار سے مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ڈیوائسز 43 شہروں میں متعلقہ سیف سٹی نیٹ ورکس کے تحت نصب کی جائیں گی اور ان میں براہِ راست نگرانی اور چہرہ کی شناخت جیسی خصوصیات شامل ہوں گی، جن کے ذریعے پولیسنگ میں بہتری اور تشدد و بدعنوانی میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

تاہم ماخذ میں واضح کیا گیا ہے کہ اعلان اور نفاذ کے درمیان پائے جانے والا خلاء انہی اصلاحات کو ناکام کر سکتا ہے۔ پولیس افسران جن کا ارادہ طاقت کا ناجائز استعمال کرنا ہو، کیمرے بند کر سکتے ہیں یا اس کی وجہ تکنیکی خرابی، بیٹری کی شکایت یا ‘غلطی’ بتا کر ریکارڈنگ کی عدم موجودگی کے بہانے پیش کر سکتے ہیں۔ مضمون ایک بین الاقوامی مثال دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ امریکہ کے شہر فلادلفیا میں ایک تھانے نے رپورٹ کیا کہ وہ 22% ایسے تعاملات ہی ریکارڈ کر سکے جو کیمرے آن کرنے کے تقاضے رکھتے تھے۔

اس سب سے اخذ ہونے والا نتیجہ یہ ہے کہ صرف کیمرے بانٹ دینا کافی نہیں ہوگا۔ کامیاب نفاذ کے لیے اعلیٰ معیار کی تربیت، بہتر ٹیکنالوجی، موثر مانیٹرنگ اور ان پالیسیاں ہونی چاہئیں جن کے تحت ریکارڈنگ نہ کرنے والے اہلکاروں کو واضح اور مؤثر سزائیں دی جائیں۔ مضمون اس بات پر زور دیتا ہے کہ باڈی کیمرے اگر منظور شدہ ضوابط کے مطابق اور مناسب وسائل کے ساتھ استعمال ہوں تو یہ شفافیت میں بڑا قدم ثابت ہو سکتے ہیں، بصورتِ دیگر صورت حال سب کے لیے بدتر ہو سکتی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1546