پنجاب پولیس نے اپنی فلاحی پالیسیوں میں اہم تبدیلیاں نافذ کرتے ہوئے بیٹیوں کے شادی کے تحفے کی رقم 250,000 روپے مقرر کر دی، افسران کے بچوں کے لیے اسکالرشپ اور طبی امداد کی نئی حدیں بھی طے کر دی گئیں۔
پنجاب پولیس نے ایک نئی نوٹیفیکیشن کے ذریعے ملازمین کے فلاحی فوائد میں نمایاں اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق بیٹی کے شادی کے لیے دیا جانے والا تحفہ 250,000 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا ہے کہ جو پولیس ملازم خدمات کے دوران چل بسے تو اس کی بیٹی کے لیے تحفہ رقم پہلے 200,000 روپے تھی جو اب بڑھا کر 500,000 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ شہید ملازم کی بیٹی کو 750,000 روپے دیے جائیں گے۔ شادی کے تحفے کا کلیم شادی کے بعد دو سال کے اندر جمع کروانا ہوگا۔
تعلیمی معاونت کے حوالے سے بھی نئی رقمیں طے کی گئی ہیں: کلاس چہارم کے ملازمین کے بچوں کے لیے ایک مرتبہ دینے والا وظیفہ 20,000 روپے ہوگا، جبکہ ایف اے اور ایف ایس سی کے طلبہ کو سالانہ 50,000 روپے اور گریجویٹ طلبہ کو سالانہ 60,000 روپے فراہم کیے جائیں گے۔ خصوصی تعلیم کے لیے ماہانہ 75,000 روپے یا سالانہ امداد کے اختیارات بھی نوٹیفائی کیے گئے ہیں۔
طبی امداد کی حدوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے؛ نوٹیفیکیشن میں طبی اخراجات کی زیادہ سے زیادہ حد 1.5 ملین روپے تک رکھی گئی ہے۔ کینسر کے علاج کے اخراجات کے لیے خدمات میں ملازم کو 1 ملین روپے تک امداد مل سکتی ہے جبکہ ان کی زوجہ اور بچوں کے لیے حد 500,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ معمولی سرجری کے لیے ملازمین کو 150,000 روپے اور ان کی زوجہ و بچوں کو 100,000 روپے تک امداد دی جائے گی۔
نوٹیفیکیشن میں طبی دعووں کو بھی شادی کے تحفے کی طرح دو سال کے اندر جمع کروانے کی شرط رکھی گئی ہے۔
یہ ترمیمات پولیس ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے فلاحی تحفظ کو مضبوط کرنے اور سنگین طبی اخراجات کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ نوٹیفیکیشن کی مزید تفصیلات اور نفاذ کے طریقہ کار کے بارے میں ذرائعِ اعلامیہ میں مزید معلومات دی گئی ہیں۔




