سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے میڈیکل تعلیم کے نظام کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تجدید کا مطالبہ کر دیا

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے PMDC سے میڈیکل تعلیم کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ازسرنو ترتیب دینے کا مطالبہ کیا؛ 2024 کے MDCAT میں 113,000 کامیاب طلبہ کے مقابلے میں صرف 22,300 طبی نشستیں دستیاب تھیں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے کہا ہے کہ ملک کی میڈیکل تعلیم کا نظام بین الاقوامی معیار کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دیا جائے۔

سینیٹر انوشے رحمان کے زیرِ صدارت سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ایم ڈی کیٹ اور قومی داخلہ پالیسی کا جائزہ لیا گیا، پی ایم ڈی سی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اُنہوں نے ایک ایسا نصاب متعارف کرایا ہے جو انٹرمیڈیٹ اور A-Level کا مشترکہ احاطہ کرتا ہے اور اِس سے متعلق شکایات بہت حد تک کم ہو چکی ہیں۔ اُن کے مطابق یہ اقدام نصابی ہم آہنگی کے لیے کیا گیا تاہم کمیٹی نے مزید شفافیت اور بین الاقوامی معیار کے حصول کی ضرورت پر زور دیا۔

قانون سازوں نے اس پالیسی کی وضاحت بھی مانگی جس کے تحت بیرونِ ملک طبی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو کونسل کے ساتھ رجسٹر کرانا لازم قرار دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ اِس سلسلے میں توجہ کا محور غیر معیاری اداروں میں داخلوں کو روکنا ہونا چاہیے نہ کہ طلبہ پر اضافی اور بظاہر غیر ضروری تقاضے عائد کرنا۔

اجلاس میں ایک اور اہم نکتہ طبی نشستوں کی شدید کمی کا بھی تھا جس پر کمیٹی نے اِس اَمر پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ 2024ء کے ایم ڈی کیٹ میں ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد طلبہ نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ملک بھر کے طبی کالجوں میں دستیان نشستیں صرف 22 ہزار 300 تھیں، اِس فرق نے صحتِ عامہ کے شعبے میں داخلے کے عمل اور مستقبل کے طبی عملے کی دستیابی کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذیلی کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کو داخلہ پالیسی، نصاب سازی اور بیرونِ ملک طبی تعلیم کے اندراج کے قواعد پر مزید تفصیلی وضاحت فراہم کرنے اور ایسے اقدامات تجویز کرنے کی ہدایت کی جو طویل مدت میں معیاری طبی تعلیم اور نشستوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 46