غلط فہمی یا حقیقت، قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے زندگی بھر بیمار رہتے ہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر سال تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں؛ جدید NICU نگہداشت اور مناسب فالو اپ سے بہت سے پری ٹرم بچے مکمل صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قبل از وقت پیدائش والے بچے زندگی بھر بیمار رہتے ہیں؟ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق حمل 37 ہفتے سے پہلے پیدا ہونے والے قریباً ایک کروڑ 30 لاکھ بچوں کی سالانہ پیدائش میں وقت سے پہلے ولادت شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قبل از وقت بچوں میں مخصوص طبی خطرات بڑھ جاتے ہیں تاہم جدید نگہداشت، مناسب غذائیت اور فالو اپ سے بہت سے بچے مکمل صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں قبل از وقت پیدائش ایک بڑی وجہ ہے تاہم ماہرین حمل کی مدت کے مطابق پری ٹرم پیدائش کو چار اقسام میں تقسیم کرتے ہیں اور جتنی کم مدت رحمِ مادر میں گزری ہوگی، بچے کو اتنی ہی زیادہ طبی مدد درکار ہوتی ہے۔

قبل از وقت ولادت کی متعدد وجوہات میں سروکس یا بچہ دانی کے مسائل، امنیوٹک تھیلی کا پھٹ جانا (پانی کا وقت سے پہلے بہہ جانا)، پیشاب یا اندامِ نہانی کے انفیکشن، ماں میں ہائی بلڈ پریشر، پری ایکلیمپسیا، ذیابیطس، تھائرائیڈ کے مسائل، خون کی کمی، جڑواں حمل، تمباکو، شراب یا منشیات کا استعمال، شدید غذائی قلت اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں اعضا کی مکمل نشوونما نہ ہونے کے باعث مختلف پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں: سانس لینے میں دشواری اور ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم جس کے لیے سرفیکٹنٹ اور بعض اوقات وینٹی لیٹر ضروری ہوتا ہے، یرقان جسے اکثر فوٹوتھراپی سے ٹھیک کیا جاتا ہے، پیدائش کے بعد خون میں گلوکوز کی کمی کی نگرانی؛ جسمانی درجۂ حرارت برقرار رکھنے کے لیے انکیوبیٹر کی ضرورت، دودھ پینے میں دشواریاں؛ کمزور مدافعتی نظام اور انفیکشن کا زیادہ خطرہ، دماغ میں خون بہنے یا نشوونما میں سستی؛ آنکھوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی اور سماعت کے مسائل جن کے لیے باقاعدہ معائنہ درکار ہوتا ہے۔

تاہم یہ غلط فہمی کہ پری ٹرم پیدائش کا مطلب ہمیشہ طویل مدتی بیمار رہنا ہے، درست نہیں کیونکہ 34 سے 36 ہفتوں کے درمیان پیدا ہونے والے زیادہ تر بچے چند دن طبی نگرانی کے بعد مکمل صحت مند ہو جاتے ہیں اور 28 سے 32 ہفتوں کے درمیان پیدا ہونے والے بچے بھی جدید نگہداشت، علاج، مناسب غذائیت اور باقاعدہ فالو اپ کے ساتھ معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل ہونا اِس بات کی علامت نہیں کہ اُمید ختم ہو گئی ہے، یہ دراصل خصوصی نگہداشت فراہم کرنے کا طریقہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کینگرو مدر کیئر (ماں کی جلد سے جلد رابطہ) بھی تجویز کرتا ہے اور ماں کا دودھ پری ٹرم بچوں کے لیے سب سے بہترین غذا سمجھا جاتا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 46