سوشل میڈیا پر ’’عضوِ تناسل چرانے‘‘ کی افواہوں پر چھ ممالک میں 80 سے زائد ہلاک

بی بی سی کی تحقیق بتاتی ہے کہ ٹک ٹاک اور فیس بک پر پھیلی 'اعضائے تناسل چرانے' کی افواہوں نے چھ افریقی ممالک میں 80 سے زائد افراد کی ہلاکتوں اور متعدد ہجوم حملوں کو بھڑکایا۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چھ افریقی ممالک میں اکتوبر 2025ء سے جولائی 2026ء تک آن لائن پھیلنے والی ’’اعضائے تناسل چرانے‘‘ کی افواہوں کی وجہ سے کم از کم 80 افراد ہلاک ہوئے، جھوٹے دعووں اور وائرل ویڈیوز نے ہجوم کے حملے بھڑکا دیے۔

بی بی سی گلوبل ڈِس انفارمیشن یونٹ نے پولیس کے اعداد و شمار اور آن لائن ویڈیوز کا تجزیہ کر کے معلوم کیا ہے کہ اکتوبر 2025ء سے جولائی 2026ء کے دوران چھ افریقی ممالک میں ’’اعضائے تناسل چرانے‘‘ کے فرضی الزامات سے کم از کم 80 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ افواہیں مختلف سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر وائرل ویڈیوز کے ذریعے تیزی سے پھیلیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ لہر مبینہ طور پر جمہوریہ کانگو سے شروع ہوئی اور بعد ازاں برونڈی، زیمبیا، تنزانیہ، موزمبیق، انگولا، ملاوی اور کینیا تک پھیل گئی۔ افواہوں میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ کسی اجنبی کے چھونے یا کندھے پر ہاتھ رکھنے سے مرد کا عضوِ تناسل سُکڑ یا غائب ہو سکتا ہے تاہم دونوں دعوئوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔

تنزانیہ کے قصبے ٹنڈوما میں مکینک بونفیس مگالا نے بی بی سی کو بتایا کہ یکم اپریل کو ایک مشتعل ہجوم نے اُنہیں اور اُن کے دوست کو ریستوران سے گھسیٹ کر باہر نکالا۔ مگالا نے کہا کہ حملہ کرنے والے چیخ رہے تھے کہ اُنہوں نے کسی کے عضو تناسل چرا لیا ہے، ہجوم اتنا بڑا تھا کہ اُن کے لیے بچ نکلنا ممکن نہیں تھا۔ مگالا کا دوست اِسی حملے میں مارا گیا جبکہ مگالا زخمی ہو کر ہسپتال پہنچا جہاں اُس کی جان بچ گئی۔

بی بی سی کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں ایک ہجوم کو ایک شخص کو پکڑ کر مارنے اور مبینہ طور پر ’’چرائی گئی‘‘ چیز واپس کرنے کا مطالبہ کرتے دکھایا گیا، اِس ایک ویڈیو کو ایک لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔ زیمبیا میں مارچ میں ایک خاتون ہجوم کے ہاتھوں مار کر ہلاک ہوئی، جس کے بعد خوف سرحد پار تنزانیہ تک پہنچ گیا۔

ماہرین اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اِس نوعیت کے دعووں کی جڑیں پرانے توہمات اور جادو ٹونے سے متعلق عقائد میں ہیں جبکہ سوشل میڈیا نے خوف اور غلط فہمیوں کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مومبا ضلع کے کمشنر الیاس ڈینیئل موانڈوبو نے کہا کہ بعض واقعات کے پیچھے دانستہ مجرمانہ مفادات تھے اور کچھ عناصر نے ذاتی مفادات کے لیے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق مقامی پولیس نے کئی علاقوں میں گشت بڑھایا اور تفتیش شروع کی جبکہ مقامی رہائشی خوف و تشویش میں مبتلا ہیں۔ بی بی سی کی تحقیقات واضح کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی بے بنیاد افواہیں حقیقی دنیا میں فوری اور خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہیں اِس لیے احتیاط، عوامی آگاہی اور آن لائن مواد کی جلد تصدیق ناگزیر ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515