عارف حبیب لمیٹڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں پاکستان میں یوریا فروخت سال بہ سال 14% کم ہو کر 701,000 ٹن رہی، جب کہ اینگرو فرٹیلائزرز نے واحد بڑھوتری دکھاتے ہوئے اپنی یوریا فروخت 18% بڑھائی اور 327,000 ٹن تک پہنچ کر ماہ کا سب سے بڑا بیچنے والا بن گیا۔
پاکستان میں اگست 2026 کے مہینے میں یوریا کی مجموعی فروخت 701,000 ٹن رہی جو پچھلے سال اسی مہینے کے مقابلے میں 14% کم ہے، یہ اعداد و شمار عارف حبیب لمیٹڈ نے مرتب کیے۔ اس کے باوجود ماہانہ بنیاد پر جولائی کے مقابلے میں فروخت 21% زیادہ تھی، جب جولائی میں آف ٹیک 580,000 ٹن رہی۔
مارکیٹ میں ایک نمایاں تبدیلی یہ تھی کہ اینگرو فرٹیلائزرز ہی وہ واحد کمپنی تھی جس نے سکڑتی ہوئی مجموعی مانگ میں نمو دیکھی۔ اینگرو کی یوریا فروخت اگست میں 18% سال بہ سال بڑھ کر 327,000 ٹن ہو گئی، جو جولائی کے مقابلے میں بھی ڈبل کے قریب اضافہ تھا، اور اس کے نتیجے میں اینگرو ماہانہ بنیاد پر فوجی فرٹیلائزر کو پیچھے چھوڑ کر سب سے بڑا فروخت کنندہ بن گیا۔
دوسری جانب ایف ایف سی اور ایف ایف بی ایل کی مشترکہ فروخت میں 30% کمی ہوئی اور وہ مل کر 226,000 ٹن تک رہ گئے۔ فیٹما گروپ کی فروخت 20% کم ہو کر 140,000 ٹن رہی، جبکہ ایگری ٹیک نے سب سے بڑی سالانہ گراوٹ دیکھی اور اس کی فروخت 78% گھٹ کر صرف 9,000 ٹن رہ گئی۔
سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں یوریا کا مجموعی آف ٹیک 3.79 ملین ٹن رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً مستحکم رہا۔ البتہ اس عرصے میں کمپنیوں کی درجہ بندی بدل گئی: ایف ایف سی کی فروخت 11% بڑھ کر 1.90 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جب کہ اینگرو کی فروخت اسی مدت میں 12% کم ہو کر 1.03 ملین ٹن رہی اور فیٹما کا ہلکا اضافہ 3% کے ساتھ 681,000 ٹن رہا۔
ڈی اے پی کی مانگ بھی اگست میں مؤثر کمی دکھاتی ہے: ڈی اے پی کا آف ٹیک سال بہ سال 10% کم ہو کر 123,000 ٹن رہا، تاہم یہ جولائی کے مقابلے میں 32% زیادہ تھا۔ ایف ایف سی اور ایف ایف بی ایل نے مل کر 91,000 ٹن ڈی اے پی بیچی، اینگرو نے اپنی ڈی اے پی فروخت دوگنی کرتے ہوئے 16,000 ٹن بیچی جبکہ پرائیویٹ امپورٹس 24% کم ہو کر 15,000 ٹن رہ گئیں۔
پہلے آٹھ ماہ کے دوران ڈی اے پی کا مجموعی آف ٹیک 701,000 ٹن رہا جو پچھلے سال کے برابر ہے، مگر اس میں پرائیویٹ امپورٹس نمایاں طور پر 22% بڑھ کر 122,000 ٹن ہو گئیں۔
یہ اعداد و شمار کھاد بازار میں کمپنیوں کے درمیان شیئر میں تبدیلی اور موسمی یا معاشی عوامل کے زیرِ اثر مانگ میں اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔




