کھٹمنڈو (مانیٹرنگ ڈیسک )نیپالی حکام نے کہا ہے کہ 26 اگست کو گلیشئر کے منہدم ہونے سے آنے والی آفت میں تقریباً 20 ہزار مکانات کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہوگی جبکہ کم از کم 1,252 افراد ہلاک اور 4,200 سے زائد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپالی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے چین کی سرحد کے قریب گلیشئر کے ٹوٹ جانے سے آنے والی برف، پتھر اور مٹی کی سیلابی لہروں نے بستیوں کو بہا کر ہزاروں گھر مکمل طور پر تباہ یا ملبے تلے دبا دیے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق 7,500 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، بہہ گئے ہیں یا ملبے تلے دفن ہیں۔ دھرم راج اپریتی، نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ نے عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جن گھروں کی عمارتیں باقی ہیں وہ بھی رہنے کے قابل نہیں رہیں گی، اِس لیے کم و بیش 20 ہزار مکانات کو محفوظ مقامات پر دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔
نیپالی حکومت کے مطابق اِس آفت سے اب تک کم از کم 1,252 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 4,200 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ چین نے تبت میں ہلاکتوں کی تعداد 21 بتائی جبکہ وہاں بھی 541 افراد لاپتہ ہیں۔
وزیراعظم بلندرا شاہ کی کابینہ نے 7 ستمبر کو قومی سوگ کا دن قرار دیا ہے جو روایتی طور پر حادثے کے 13ویں دن رسمی سوگ کے اختتام کی عکاسی کرتا ہے۔
نیپالی فوج کے بیانیے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 9,300 سے زائد فوجی سرچ اینڈ ریسکیو، لاشوں کی بازیابی، بند راستوں کی صفائی اور ایمرجنسی طبی امداد میں مصروف ہیں۔ مقامی افسروں کا کہنا تھا کہ ہائیڈرو پاور منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کام کرنے والے کم از کم 900 افراد پھنسے ہو سکتے ہیں جن کی تلاش بھارتی، جنوبی کوریا اور چین کے ماہرین کی مدد جاری ہے۔
بین الاقوامی ردِ عمل میں چین نے امدادی سامان بھیجا جبکہ آسٹریلیا نے اضافی مدد اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈیٹا شیئر کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یونیسف نے کہا ہے کہ 22 ہزار بچوں کو فوری طور پر پینے کے صاف پانی، بیت الخلاء اور حفظانِ صحت کی خدمات درکار ہیں۔
وزیرِاعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے اسلام آباد میں نیپال کی سفیر ریتا دھیتال سے ملاقات میں گہرے افسوس کا اظہار کیا اور پاکستان کی طرف سے اس ہفتے مزید ایمرجنسی ریلیف بھیجا جائے گا۔ وزیراعظم نے نیپال کو مسلسل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان امدادی کوششوں میں نیپال کے ساتھ کھڑا ہے۔
نیپالی حکومت اور امدادی ادارے متاثرین کی عارضی رہائش، سکولوں کی بحالی اور محفوظ مقامات پر دوبارہ آباد کاری کے لیے وسائل جمع کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں اِسی مقام پر دوبارہ تعمیر کی اجازت نہیں ملنی چاہیے کیونکہ یہ جگہیں اب خطرناک محسوس ہوتی ہیں۔




