ٹرمپ کا AI پر بڑا وار؛ ڈیٹا سینٹر مخالف مہم کو ’فریب‘ قرار دے دیا
(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے خلاف بڑھتی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو (اے آئی) کی دوڑ میں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ لاس اینجلس میں جاری (آل اِن سمٹ) کے دوران ٹرمپ نے(اینویڈیا) کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کو براہِ راست فون کیا اور لائیو پروگرام میں ان سے گفتگو کی، جس نے تقریب کو فوری طور پر عالمی ٹیکنالوجی بحث کا مرکز بنا دیا۔ ٹرمپ نے (اے آئی) کے ممکنہ خطرات اور اس کے خلاف بڑھتی مزاحمت کو ایک ’’دھوکہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روبوٹس دنیا پر قبضہ نہیں کرنے والے۔
امریکی صدر نے (اے آئی) ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی مخالفت پر بھی سخت مؤقف اپنایا اور انہیں امریکی اقتصادی طاقت اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر قرار دیا۔ ٹرمپ کا مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب معروف ٹیکنالوجی شخصیات سیم آلٹ مین، ڈاریو اموڈی اور ایلون مسک سمیت کئی رہنما (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے ممکنہ خطرات پر زیادہ نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان خدشات میں خودکار سائبر حملے، غلط معلومات، طاقتور (اے آئی) ماڈلز کا غلط استعمال اور مستقبل میں انسانی کنٹرول سے متعلق خطرات شامل ہیں۔
دوسری جانب (اینویڈیا) کے سربراہ جینسن ہوانگ نے بھی (اے آئی) ترقی کو سست کرنے کے بجائے محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھانے کی حمایت کی۔ ان کے مطابق (اے آئی) انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری امریکا کی صنعتی اور تکنیکی برتری برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔ ٹرمپ نے اس بحث کو چین کے ساتھ عالمی ٹیکنالوجی مقابلے سے بھی جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ ضابطے امریکی (اے آئی) صنعت کو سست کرکے چین کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اسی لیے وائٹ ہاؤس (اے آئی) کو صرف تجارتی شعبہ نہیں بلکہ معاشی، صنعتی اور جغرافیائی سیاسی طاقت کا اہم ستون سمجھ رہا ہے۔




