ورلڈ اوشنز ڈے 2026: سمندروں کی حفاظت، حیات کی بقا

تحریر: اسماء خورشید
سمندروں کی افادیت کو اْجاگر کرنے اور بحری و آبی وسائل کے پائیدار استعمال کے متعلق آگہی کے فروغ کے لیے دنیا بھر میں ہر سال8 جون کوسمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ عالمی یومِ بحر 2026 کا موضوع “ہماری نیلی زمین کے لیے مضبوط بحری محفوظ علاقے” (Strong Marine Protected Areas for Our Blue Planet) ہے۔ اس موضوع کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ سمندروں اور ان میں موجود حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے بحری محفوظ علاقوں کا قیام اور ان کا مؤثر انتظام انتہائی ضروری ہے۔سمندری محفوظ علاقے (MPAs) سمندر کے ان مخصوص حصوں کو کہا جاتا ہے جہاں انسانی سرگرمیوں، جیسے کہ بے دریغ مچھلیوں کے شکار (Overfishing)، صنعتی آلودگی، اور مائننگ پر قانونی طور پر سخت پابندی ہوتی ہے۔پاک بحریہ سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر یونٹس میں لیکچرز اور سیمنارز ،ساحل سمندر پرآگاہی واک اور بندرگاہ کی صفائی جیسی سرگرمیوں کے ذریعے عوم الناس کو شعوروآگاہی فراہم کرتی ہے کہ سمندر ہمارا مشترکہ اثاثہ ہیں۔ان کی بقاء میں ہی جانداروں کی بقاء اور انکے تحفظ میں ہی آئندہ نسلوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
بجٹ میں دفاع کے لیے وسائل کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیر اعظم
چونکہ سمندر ہماری روزمرہ زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا زمین پر ہونے والی انسانی سرگرمیوں کا سمندروں اور اُن میں پائے جانے والے جانداروں کی زندگی پر براہِ راست اثر ہوتا ہے۔ جیسا کہ سمندروں کو درپیش چیلنجز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید طریقوں کی ضرورت ہے۔عالمی یومِ بحر کا مقصد عوام الناس میں سمندروں اور اُن میں پائے جانے والے جاندار اور بے جان ذخائر کی حفاظت سے متعلق آگہی پیدا کرنا ہے تاکہ پائیدار سماجی ومعاشی ترقی کی راہ ہموار کی جاسکے۔ یہ دن ہمیں ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں سمندروں کو درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز کریں۔
این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا حصہ شامل ہوگا، وزیراعظم نے180 دن میں پیشرفت کی یقین دہانی کرائی ہے،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
ذرا سوچیے، دنیا کا ایک تہائی حصہ سمندر پر مشتمل ہے۔ وہ سمندر، جو صرف معیشت کو پروان چڑھانے، پروٹین حاصل کرنے، سفرو تجارت ہی میں اہم کردار ادا نہیں کرتا بلکہ زندگی کا گہوارہ، وسائل کا خزانہ بھی ہے،جو ہماری ذہنی وجسمانی صحت، ذہنی سکون فراہم کرنے کا بھی باعث ہے۔ لیکن انسان فطرتاً بڑا ہی ناشکرا، احسان فراموش ہے، جو اس کے ساتھ بھلائی کرے، اسی کو نقصان پہنچاتا ہے۔انسانوں کی سمندر میں خارج شدہ آلودگی،پلاسٹک اور صنعتی اخراج وغیرہ سمندر کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور سمندری نباتات اور حیاتیات کی افزائش کو متاثر کررہے ہیں، جس سے بالآخر انسانوں کے تحفظ اور صحت کو خطرہ لاحق ہورہا ہے۔سمندر کی افادیت اور اہمیت کو نظر انداز کرنے اور لاپروائی برتنے کے نتائج یہ ہیں کہ سمندروں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے،سطح سمندرمیں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی تیزابیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سمندری آلودگی کا 80 فیصد حصہ زمین سے شروع ہوتا ہے۔زمین پر پائی جانے والی آلودگی، سیوریج کا گندا پانی سمندری ”ڈیڈ زونز ”کا سبب بن رہے ہیں، جن کے باعث آکسیجن کی مقدار میں کمی ہوسکتی ہے یا اس کی مقدار صفر رہ جانے کی وجہ سے ایسی جگہوں پرسمندری حیات کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔لہٰذا دنیا کو درپیش ایک اہم چیلنج سمندری استحکام کے مختلف پہلوؤں اور ماہی گیری کے پائیدار طریقے تلاش کرنااور انہیں فروغ دینا ہے
اسلام آباد میں کاروباری اوقات کار کے حوالے سے نیا نوٹیفکیشن جاری
عالمی یومِ بحر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے، پاک بحریہ سمندری ذخائر کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو عام کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کی قابل ِ ذکر کاوشوں میں ساحلوں کی صفائی، ہاربرڈ یبرس کلیکشن بارجز کی تعمیر، بڑے پیمانے پر مینگرووز کی شجرکاری، سمندر میں تیل کے اخراج سے ہونے والی آلودگی کو قابو کرنا اور سمندری آلودگی گھٹانے کے لیے مقامی و صنعتی کمیونٹی کےساتھ روابط استوار کرکے فضلے کے اخراج کو کم کرنا شامل ہیں۔ سمندروں اور اُن کے ذخائر کے حوالے سے آگہی پیدا کرنے اور اس دن کو منانے کے لیے کئی تقریبات اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
دشمن غلط فہمی میں نہ رہے، ہم کبھی سرینڈر نہیں کریں گے، جو ایران کو مٹانے کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ صرف خواب ہی دیکھتے رہ جائیں گے،صدر مسعود پزشکیان
نوٹ: یہ مصنفہ کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کی پالیسی کا اس سے کوئی تعلق نہیں
