وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ حکومت URAAN Pakistan منصوبے کے تحت پورے ملک میں بچے کی صحت، غذائیت اور ابتدائی نشوونما کے فروغ کے لیے ایک کروڑ (10 ملین) نوجوانوں کو ‘سوشل اویئرنس ایمبیسیڈرز’ کے طور پر متحرک کرے گی، یہ اعلان غذائیت اور ابتدائی نشوونما پر قومی مکالمے کے اختتامی سیشن میں کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ نوجوان رضا کار اپنی اپنی کمیونیٹیز میں آگاہی مہمات چلائیں گے تاکہ بچوں کی صحت، غذائیت اور ابتدائی نشوونما کے بارے میں شعور بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 260 ملین تک پہنچ چکی ہے اور تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے انسانی ترقی میں سرمایہ کاری قومی ترجیح ہونی چاہیے۔
وزیر نے نشاندہی کی کہ پاکستانی بچوں میں تقریباً 40 فیصد ترقی میں کمی (stunting) کا شکار ہیں اور بچوں کی جسمانی و ذہنی ترقی کے لیے پہلے پانچ سال انتہائی اہم ہیں۔ اُن کے بقول غذائیت کو الگ مسئلہ سمجھ کر حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ بہتر ماں کی صحت، صاف پینے کا پانی، صفائی و ستھرائی، حفظانِ صحت اور معیاری ابتدائی تعلیم کے ذریعے اس کی حمایت ضروری ہے۔
احسن اقبال نے 2047 تک پاکستان کی ترقی کے حوالے سے کہا کہ جب ملک آزادی کی 100 سالہ سالگرہ منائے گا تو اس کے لیے ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور ہنرمند نسل کا ہونا لازمی ہے۔
وزیر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں پالیسیوں کا فقدان نہیں بلکہ ان پر عملداری میں کمزوری اور پالیسی تسلسل کے فقدان کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
آغازِ مہم، رضاکاروں کی تربیت اور عمل درآمد کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات اس اعلان میں شامل نہیں کی گئیں؛ احسن اقبال کے اعداد و شمار اور بیانات قومی مکالمے کے اختتامی سیشن کے حوالے سے رپورٹ کیے گئے ہیں۔
حکومت کا یہ اقدام بچوں کی غذائیت اور ابتدائی نشوونما پر توجہ مرکوز کرتا دکھائی دیتا ہے، مگر کامیابی کا دارومدار مقامی سطح پر موثر نفاذ، سماجی خدمات کی فراہمی اور صوبائی سطح پر تعاون پر ہوگا۔




