لاہور (سٹاف رپورٹر) سابق کپتان محمد یوسف نے سہ فریقی ون ڈے سیریز میں خراب فارم دکھانے والے بابر اعظم کے لیے مشورہ دیا ہے کہ اُنہیں انگلینڈ یا آسٹریلیا بھیج کر خصوصی کوچنگ کرائی جائے اور تکنیکی خامیوں کے حل تک فرسٹ کلاس کرکٹ نہ کھلائی جائے ۔ بابر نے اِس سیریز کے پانچ میچوں میں مجموعی طور پر 118 رنز بنائے۔
سابق پاکستانی بیٹسمین محمد یوسف نے ایکس پر بابر اعظم کی موجودہ بیٹنگ تکنیک پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ‘خصوصی کوچنگ’ کے بغیر فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلیں۔ کسی برطانوی یا آسٹریلوی کرکٹ اکیڈمی بھیجا جائے تاکہ تکنیکی خامیوں کو درست کیا جا سکے اوراُن کا اعتماد بھی بحال ہو سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سہ فریقی سیریز کے پانچ میچوں میں بابر اعظم نے مجموعی طور پر 118 رنز بنائے، اُن کی سب سے بڑی اننگز 45 رنز رہی اور وہ اِس سیریز میں کوئی نصف سنچری نہ بنا سکے۔ تسلسل کے اعتبار سے وہ پہلے میچ میں سری لنکا کے خلاف 45 رنز، انگلینڈ کے خلاف دو میچوں میں بالترتیب 34 اور 10 رنز، چوتھے میچ میں 29 رنز، اور فائنل میں پانچ گیندیں کھیل کر بغیر رن بنائے آؤٹ ہوئے۔
یہ رائے تب سامنے آئی جب سابق اور موجودہ کرکٹر اس معاملے پر منقسم دکھائی دیے۔ ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے فائنل کے بعد پریس کانفرنس میں بابر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘اچھے کھلاڑی’ ہیں اور ‘دومیسٹک کرکٹ میں واپس جا رہے ہیں اور جلد ہی وہ کم بیک کریں گے’۔
اس کے برعکس محمد یوسف نے نشاندہی کی کہ بابر کی تکنیکی خامیاں موجود ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں مشکلات ان کا اعتماد مزید متاثر کر سکتی ہیں۔ یوسف نے ماضی کی مثالیں دے کر کہا کہ درست رہنمائی سے بابر اپنے بہترین فارم میں واپس آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے بابر کی حمایت کی اور کہا کہ ان کی ایک دہائی پر محیط کارکردگی کو خراب فارم کے ایک دور سے خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔ عماد نے یہ بھی کہا کہ تجزیہ درست ہونا چاہیے مگر ذاتی مخالفت یا کردار کشی درست نہیں۔ کرکٹر عابد علی نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ بابر ابھی بھی پاکستان کے بہترین ون ڈے بلے باز ہیں اور ان کی شخصیت کو ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ میں سابق کھلاڑیوں کے بیانات اور بابر کے تازہ اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر یہ تنازعہ پیش کیا گیا ہے کہ طویل المدتی بہتری کے لیے کیا بابر کو بیرونِ ملک مخصوص تربیت کی ضرورت ہے یا انہیں ملک میں ہی کھیلتے ہوئے فارم واپس لانا چاہیے۔




