محکمہ آبپاشی سندھ کے آڈٹ میں قریباً 24 ارب روپے کی بے قاعدگیاں

آڈیٹر جنرل کی 54 نقاتی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024-25 میں سندھ آبپاشی ڈیپارٹمنٹ میں قواعد کی خلاف ورزیوں اور مالی بےقاعدگیوں کی مالیت 23.95 ارب روپے بنتی ہے۔

کراچی (سٹاف رپورٹر) آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ آبپاشی سندھ میں 25-2024ء قواعد کی خلاف ورزیوں اور مالی بے قاعدگیوں کی مالیت 23.95 ارب روپے بنتی ہے۔

آڈیٹر جنرل نے تفصیلی 54 نقاتی رپورٹ محکمہ آبپاشی کے سیکرٹری کو بھیج دی جس میں کہا گیا ہے کہ محکمے کے منصوبوں اور خریداریوں میں متعدد مالی اور انتظامی خامیاں پائی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بے قاعدگیوں میں ٹھیکوں کی غیر قانونی تقسیم، منظور کردہ قواعد کے خلاف ادائیگیاں اور بلوں کی پراسیسنگ اور کلیئرنس میں طریقۂ کار کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

رپورٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور نفاذ کے دوران لازمی طریقہ کار کو ’’بائی پاس‘‘ کرنے کی کوشش کی گئی اور بعض اخراجات ہنگامی کاموں کے طور پر جواز پیش کیے گئے حالانکہ اِن کی قانونی حیثیت اور عوامی خزانے کو ہونے والے ممکنہ نقصان پر سوالات اٹھائے گئے۔

آڈٹ ٹیم نے منظوری کے عمل اور خریداریوں میں قواعد کی خلاف ورزی، مبینہ طور پر غیر قانونی ٹینڈرز کی قبولیت اور ضابطوں کے برعکس پروکیورمنٹ کی مثالیں بھی درج کیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سیلابی بندوں کی مرمت کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے مگر محکمے نے اِن بڑے اخراجات کے قانونی یا دستاویزی جواز فراہم نہیں کیے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے رپورٹ آبپاشی سیکرٹری کو آگاہی اور آئندہ کارروائی کے لیے بھیج دی ہے۔ آڈٹ اتھارٹیز نے خبردار کیا ہے کہ رپورٹ میں درج بے قاعدگیوں کی شفاف انکوائری ضروری ہے جبکہ ذمہ دار افسروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جانی چاہئے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2952