سعودی عرب اور امریکا کے عراق میں فضائی حملے، 20 اہلکار ہلاک

سعودی اور امریکی فورسز نے عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی حملے کیے، جن میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے کم از کم 20 اہلکار ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔

29 جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور امریکی مسلح افواج نے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی حملے کیے جن میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے کم از کم 20 اہلکار ہلاک اور 32 زخمی ہوئے؛ حملے سات صوبوں میں کیے گئے۔

سعودی عرب اور امریکا کی مشترکہ فضائی کارروائیوں میں عراق کے سات صوبوں بغداد، واسط، نینویٰ، بصرہ، کرکوک، کربلا اور دیالہ میں پی ایم ایف کے متعدد ٹھکانوں، دفاعی مؤاضع، عمارتیں، ملٹری گاڑیاں اور عسکری سازوسامان نشانہ بنے۔

عراق کی سرکاری عسکری تنظیم پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) نے دعویٰ کیا کہ “حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کے یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں، جبکہ علاقائی جائزوں اور آپریشنز کے جاری رہنے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے”۔ پی ایم ایف نے بتایا کہ حملوں میں کم از کم 20 عراقی اہلکار مارے گئے جبکہ 32 زخمی ہوئے۔

عراقی حکام نے کہا کہ متاثرہ صوبوں میں ریسکیو ٹیمیں اور امدادی عملہ فوری طور پر روانہ کر دیے گئے ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور تباہی کا حجم جانچنے کے کام جاری ہیں۔ حملوں کے بعد ملک میں سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے اور مختلف مقامات پر اعلیٰ عسکری قیادت حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی سعودی تیل تنصیبات اور امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔ سعودی رائل فضائیہ نے بصرہ، واسط، کربلا اور نینویٰ کے میدانی علاقوں میں ملیشیا کے ٹھکانوں، اسلحہ کے گوداموں اور لاجسٹک مراکز پر حملے کیے۔

سعودی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا: “سعودی مسلح افواج نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون کے تحت عراق میں موجود اُن ملیشیاؤں کے اہداف پر حملے کیے جو مملکت کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے میں ملوث تھیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی ایئر ڈیفنس نے حالیہ دنوں میں ریاض اور مشرقی صوبے کی پیٹرولیم تنصیبات کی طرف عراقی علاقے سے بھیجے گئے متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: “سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور اس کی نیابتی تنظیموں کو مزید امریکی فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے یہ حملے فوری طور پر روکنے ہوں گے”۔ امریکی حکام کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران امریکا اور سعودی عرب کی تنصیبات پر 30 سے زائد ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کی کوششیں کی گئیں، جنہیں ناکام بنایا گیا۔

عراقی عسکری اتحاد ‘اسلامک ریزسٹنس ان عراق’ نے حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی اور سعودی دعووں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا: “سعودی عرب کے کسی بھی بے وقوفانہ اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا”۔

عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ان حملوں کی تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ عراقی فوج نے بھی بیان میں کہا: “عراق اپنی سرزمین کو کسی بھی بھائی یا دوست ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا پابند ہے”۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1539