وزیرِ خارجہ و ڈپٹی وزیراعظم نے وزارتِ خارجہ اسلام آباد میں امریکی کانگریس اراکین اور کاروباری افراد پر مشتمل وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مثبت رفتار موجود ہے اور دونوں ممالک باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور علاقے میں امن کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ خطاب میں انہوں نے تجارتی اہداف، حالیہ سفارتی مشقتیں اور سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری کے امکانات کا ذکر کیا۔
ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نےامریکی پارلیمانی اور کاروباری وفد کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ وفد کی پاکستان آمد دو طرفہ دوستی اور تعلقات میں مضبوطی کی علامت ہے۔
مقامی سطح پر خطاب میں وزیرِ خارجہ نے ذکر کیا کہ پاکستان اور امریکہ دنیا کی بالترتیب پانچویں اور تیسری بڑی آبادیوں والے ممالک ہیں اور دونوں فریق اپنے اقتصادی اور سٹریٹجک فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے شراکت کو وسعت دے سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اِس سٹریٹیجک شراکت میں رفتار آ رہی ہے۔
وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ پچھلے سال کے دوران انہوں نے سیکرٹری مارکع روبیو کے ساتھ واشنگٹن میں دو پروڈیوسِو ملاقاتیں کیں جس میں دو طرفہ ایجنڈے اور علاقائی پیشرفت پر تبادلۂ خیال ہوا۔ انہوں نے پارلیمانی تبادلوں کو اعتماد سازی اور باہمی فہم بڑھانے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں پاکستان کو اہمیت دینے والے اراکینِ کانگریس قابلِ قدر ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں امریکی کانگریس کے ساتھ پاکستان کا رابطہ خاص طور پر ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی اور دیگر اہم دفاتر کے ساتھ مؤثر انداز میں بڑھا ہے۔
اَمن کے حوالے سے وزیرِ خارجہ نے مئی پچھلے سال پاک بھارت جنگ بندی سمجھوتے میں صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کے کردار کے لیے تشکر کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان نے بااخلاص ثالث کے طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جون رواں سال ’’اسلام آباد مفاہمتی ہادداشت پر دستخط ہوئے۔وزیرِ خارجہ نے امریکی کاروباری افراد کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے، شراکت داروں سے ملنے اور طویل المدتی سرمایہ کاری میں قدم رکھنے کی دعوت دی۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان نے ریگولیٹری عمل کو آسان بنایا ہے تاکہ کاروبار کرنا، شروع کرنا اور بڑھانا آسان ہو۔
اقتصادی روابط پر زور دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں دونوں ملکوں کے درمیان اشیائے تجارت کا حجم 9.4 ارب ڈالر رہا اور حکومت کا ہدف آئندہ پانچ سال میں 20 ارب ڈالر تک تجارت کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے کپاس اور سویا بین کے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہے اور امریکہ کے 80 سے زائد ادارے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔




