ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ میں طے پانے والا دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل 5 کے باہمی دفاع کے قانون کے برابر ہے تاہم اِس کا ہدف ایران نہیں ہے۔
ترکیہ کی اے این اے دولو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے ایک مشترکہ سلامتی کے وعدے کا اصولی عہد قائم کیا ہے جس میں اگر کسی رُکن ملک پر حملہ ہوا تو باقی ممالک ایک دوسرے سے مشاورت کریں گے اور ضروری مدد کی نوعیت، دائرۂ کار اور انداز کا فیصلہ کریں گے۔
فیدان نے کہا کہ تینوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ مکمل کرنے میں دو سال اور آٹھ ماہ کا عرصہ لگا۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایران کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ بنیادی مقصد ممبرز کی باہمی سلامتی کا اشتراک ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک بھی اِس میں شامل ہو سکتے ہیں، ترک صدر رجب طیب اردگان اِس اتحاد کو صرف تین بانی ارکان تک محدود رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ فیدان نے مصر کو ایک ممکنہ مستقبل رکن کے طور پر شناخت کیا بشرطیکہ متعلقہ فریق کچھ تکنیکی امور طے کر لیں۔
یہ معاہدہ ایک ایسا اعلیٰ سطح (سربراہان مملکت) کی کمیٹی کا نظام قائم کرے گا جو نیٹو کے ڈھانچے جیسا ہوگا اور اِس کے ساتھ سعودی عرب میں ایک عمومی سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا۔ فیدان کے مطابق پہلی کمیٹی کی میٹنگ میں اِسی اتحاد کے آپریشنل انتظامات اور طریقۂ کار کا تعین کیا جائے گا۔
فیدان کا مطابق ترکیہ کو بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں کے خلاف سمندری روٹ کی حفاظت کے لیے بننے والی کسی بھی عالمی اتحاد میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ سمندری تحفظ براہِ راست ترکی کے مفادات سے جڑا ہوا ہے۔




