لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ صوبے کے تمام کالجوں میں 2027ء سے عام طریقے سے کیے گئے داخلے ختم کر کے مکمل داخلہ عمل آن لائن کر دیا جائے گا، کہا گیا ہے کہ یہ قدم پنجاب حکومت کی پیپر لیس پالیسی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ڈی پی آئی) پنجاب ڈاکٹر انصار اظہر نے بتایا کہ یہ اقدام “پنجاب حکومت کی پیپر لیس پالیسی” کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے نظام کے تحت کالجوں کی طرف سے چھپی ہوئی پراسپیکٹس یا داخلہ فارم جاری نہیں کیے جائیں گے اور طلبہ کو داخلہ کا پورا عمل آن لائن مکمل کرنا ہوگا۔
ماخذ کے مطابق کالجوں کی فیسوں کی ادائیگیاں پہلے ہی آن لائن منتقل کر دی گئی ہیں اور آئندہ تعلیمی سال سے داخلے کے باقیماندہ تمام طریقہ کار بھی ڈیجیٹل کر دیے جائیں گے، جس میں درخواستیں، داخلے سے متعلقہ کارروائیاں اور فیس کی وصولی شامل ہوں گی۔
ڈاکٹر انصار اظہر نے طلبہ اور والدین سے کہا ہے کہ وہ کالجوں کا دورہ کرنے اور قطاروں میں کھڑے رہنے کے بجائے ای-سسٹم استعمال کریں۔ ان کے بقول آن لائن منتقلی سے داخلے کا عمل تیز، شفاف اور کاغذی خرچ کم ہوگا۔
محکمے نے موجودہ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے داخلہ کے عمل کی تفصیلات، درخواست فارم اور فیس کی ادائیگی کے طریقہ کار عوام کے لیے دستیاب کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم کسی مخصوص ویب پورٹل یا لاگ ان رہنمائی کی تفصیلات ماخذ میں حوالہ نہیں دی گئیں۔
پنجاب میں کالج داخلے کی اس مکمل ڈیجیٹائزیشن کا مقصد انتظامی عمل کو ہموار کرنا اور طلبہ کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بتایا گیا ہے۔ ڈیجیٹل نفاذ سے قبل محکمہ توقع رکھتا ہے کہ متعلقہ عملے اور طلبہ کو آن لائن نظام کی تربیت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
محکمہِ تعلیم کی یہ نئی پالیسی آنے والے برسوں میں داخلہ کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں لا سکتی ہے، جبکہ والدین اور طلبہ کو پہلے سے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔




