خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار

خانیوال سے پنجاب پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر فطری طریقے سے اپنی اہلیہ سے جنسی عمل کیا جس کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی ہے، ملزم کے خلاف قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزم کو آج مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
بی بی سی کے مطابق اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار عثمان خان نے بتایا کہ چونکہ قتل کے مقدمے میں کسی بھی ملزم کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ لینا ضروری ہوتا ہے اس لیے انھیں مقامی عدالت میں پیش کرنے کے بعد جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی، تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار کے مطابق خانیوال کے ایک گاؤں کی 18 سالہ لڑکی کی شادی تین ماہ قبل ملزم سے ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے اپنی بیوی کے ساتھ اُس وقت دو مرتبہ غیر فطری طریقے سے جنسی عمل کیا جب وہ ایام مخصوصہ میں تھی، پولیس کے مطابق مقتولہ نے اس کی شکایت اپنی قریبی خواتین رشتہ داروں سے بھی کی تھی۔
مقتولہ کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ان کی بہن والدین کے گھر آئیں تو وہ بہت کمزور دکھائی دے رہی تھیں۔ ان کے مطابق والد نے بیٹی کی حالت دیکھ کر اپنی اہلیہ سے کہا کہ ان سے اس قدر کمزور ہونے کی وجہ دریافت کریں اور یہ بھی پوچھیں کہ یہ حالت کس نے کی ۔مقتولہ کے بھائی کا دعوی ہے کہ ان کی بہن نے اپنی والدہ کو بتایا کہ ان کے شوہر حیض کے دوران غیر فطری طریقے سے جنسی عمل کرتے رہے، انفیکشن ہو چکا ہے اور اور انھیں قضائے حاجت میں بھی دشواری ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ مقتولہ نے اپنی والدہ کو یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے شوہر نے انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر اس واقعے کا ذکر اپنے والدین سے کیا تو وہ ان کے اکلوتے بھائی کو قتل کروا دیں گے۔بھائی نے بتایا کہ مقتولہ جب اپنی والدہ کو یہ تمام باتیں بتا رہی تھیں تو اسی دوران ان کی حالت غیر ہو گئی، جس پر انھیں نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری طبی امداد دے کر انھیں داخل کر لیا۔
مقامی پولیس کے مطابق دو دن بعد ان کا آپریشن کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ تفتیشی ٹیم کے رکن عثمان خان کا کہنا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت مبینہ طور پر ملزم کے عمل کی وجہ سے ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مقامی پولیس اس معاملے میں مقدمہ درج نہیں کر رہی تھی تاہم وزیر اعلیٰ کے شکایات سیل میں شکایت درج ہونے کے بعد متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔پولیس کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے وقت تک مقتولہ زندہ تھیں اور کیس ان ہی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
