پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق چین میں نئے لازمی معیار GB 47834-2026 کے باعث مینوفیکچررز پرانے 585W شمسی ماڈیولز بیچنا شروع کر سکتے ہیں جس کا اثر جلد پاکستان کی مارکیٹ پر محسوس ہوگا، یہ معیار 27 جون 2026ء کو شائع ہوا اور یکم جنوری 2027ء سے نافذ العمل ہوگا اِس لیے خریداروں کو سستے دام دیکھ کر فوراً فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
چین میں متعارف ہونے والا نیا قومی معیار GB 47834-2026 کرسٹلائن سلیکون فوٹو وولٹائک ماڈیولز کے لیے کم از کم توانائی کارکردگی کے تقاضے طے کرتا ہے۔
ماڈیولز کی کارکردگی کے لیے نئے تقاضے چین میں مینوفیکچرنگ اور ڈسٹری بیوشن میں تیزی سے تبدیلی کا باعث بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب پیداوار جدید اور زیادہ ایفیشنسی والی نسل کی جانب منتقل ہوگی تو پرانے، بڑی فارمیٹ کے 585W ماڈیولز کا سٹاک بیچنے کے لیے بقیہ مارکیٹس میں روانہ کیا جا سکتا ہے اور قیمتیں کم رکھی جا سکتی ہیں۔
پاکستان پہلے ہی دنیا کے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہے اور گذشتہ دو سال میں یہاں شمسی پینلز کی غیر معمولی درآمدات کے نتیجے میں بڑا سٹاک جمع ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ قیمتوں کے حساس صارفین کو رعایتی 585W ماڈیولز کی پیشکش نظر آئے۔
تاہم ماہرین اور رپورٹرز انتباہ کرتے ہیں کہ صرف ’’واٹیج‘‘ دیکھ کر فیصلہ کرنا غلط ہو سکتا ہے۔ شمسی پینلز عام طور پر 20 سال یا اِس سے زیادہ عرصے تک کام کرنے کی توقع رکھتے ہیں، اِس لیے اگر ماڈل مستقبل میں بند یا ڈس کنٹینیو ہو جائے تو بدلنے، مرمت یا سپیئر پارٹس کی دستیابی میں دشواری ہو سکتی ہے۔
ایک پینل کا 585W لیبل پرِکشش ضرور ہو سکتا ہے لیکن دو ایک جیسے واٹ والے ماڈیولز کی طویل المدتی قدر اُن کی ایفیشنسی، حجم اور فزیکل خصوصیات پر منحصر ہوتی ہے۔ محدود چھت والے صارفین کے لیے زیادہ ایفیشنٹ ماڈیولز کم جگہ میں زیادہ پیداوار دیتے ہیں۔
خریداروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ بیچنے والے سے ماڈل نمبر اور مینوفیکچرر کی تصدیق کریں، وارنٹی کے دعووں میں یہ پوچھیں کہ اگر ماڈل مارکیٹ سے غائب ہو گیا تو دعوے کون سنبھالے گا، اور خاص طور پر غیر معمولی طور پر سستی پیشکشوں میں یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ واقعی مسابقتی رعایت ہے یا بس بقیہ اسٹاک کی صفائی۔
چین کے نئے معیار کے نفاذ کے بعد مارکیٹ میں ایفیشنسی والی نئی ٹیکنالوجیز کی بڑھتی مانگ اور پرانے اسٹاک کی منتقلی جاری رہنے کا امکان ہے، اس لیے پاکستانی صارفین کو رعایتی 585W پیشکشوں میں اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔




