پنجاب پولیس کا باڈی کیمرا اور پینک بٹن منصوبہ حکومتی ڈیڈ لائن کے باوجود تاخیر کا شکار

پنجاب حکومت نے اپریل 2026 تک 14,000 باڈی کیمروں اور 700 پینک بٹنز نصب کرنے کی ہدایت کی تھی، مگر منصوبہ جنوری میں منظور ہونے کے باوجود لاہور اور دیگر اضلاع میں نامکمل ہے۔

پنجاب پولیس نے صوبائی حکومت کی پولیس اصلاحات کی ہدایت کے باوجود باڈی کیمروں اور پینک بٹنز کا مکمل نفاذ نہیں کیا، جبکہ حکومت نے اپریل 2026 تک 14,000 باڈی کیمروں اور 700 پینک بٹنز کی تنصیب کا ہدف مقرر کیا تھا؛ منصوبہ جنوری میں منظور ہوا تھا اور دو ماہ میں تکمیل ہونی تھی، مگر لاہور اور دیگر اضلاع میں تقسیم اور تنصیب نامکمل ہے۔

پنجاب حکومت کی ہدایت کے مطابق پولیس اصلاحات کے تحت اہلکاروں کو شفافیت بڑھانے کے لیے ریڈ کارروائیوں میں باڈی کیمروں کا استعمال لازمی قرار دیا گیا تھا اور شہریوں کے لیے پولیس اسٹیشنوں کے باہر فوری مدد طلب کرنے کے لیے پینک بٹنز نصب کیے جانے تھے۔

حکومت نے اپریل 2026 کو اصلاحات مکمل کرنے کی تاریخ مقرر کی تھی اور منصوبے میں کل 14,000 باڈی کیمروں اور 700 پینک بٹنز کی فراہمی اور تنصیب کا ہدف وضع کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ جنوری میں منظور ہوا تھا اور حکام کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ دو ماہ کے اندر اس عمل کو مکمل کریں۔

تاہم ProPakistani کی رپورٹ کے مطابق اس ہدف کو پورا نہیں کیا گیا اور عمل درآمد ابھی تک لاہور اور پنجاب کے دیگر حصوں میں نامکمل ہے۔ باڈی کیمروں کی تقسیم مکمل نہیں ہوئی، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار اب بھی کیمرے کے بغیر چھاپوں اور کارروائیوں میں تعینات ہیں۔ اسی طرح شہری رسائی کے لیے بنائے گئے پینک بٹنز بھی کئی مقامات پر نصب نہیں ہوئے۔

حکومت کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود دونوں اہم عناصر جزوی طور پر ہی نافذ ہوئے ہیں، جس سے اصلاحاتی منصوبے کی موثریت اور عوامی اعتماد پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ تنصیبات اور تقسیم میں تکنیکی اور لاجسٹک رکاوٹیں سامنے آئیں، مگر رسمی وضاحتیں یا حتمی شیڈول فی الحال جاری نہیں کیے گئے۔

اس پیش رفت کا فوری اثر عوامی حفاظت اور شفافیت کے وعدوں پر پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ باڈی کیمرے اور پینک بٹن اصلاحات کے مرکزی ستون سمجھے جاتے ہیں۔ حکومت یا پنجاب پولیس کی جانب سے عوامی بیانات یا تفصیلی باضابطہ اپ ڈیٹ رپورٹ میں شائع نہیں کی گئی ہے۔

ProPakistani کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی مکمل نفاذی تفصیلات اور باقی رہ جانے والے مقامات کی فہرست ابھی دستیاب نہیں، جبکہ ذمہ دار ادارے آئندہ اپڈیٹس جاری کر سکتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516