وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے 20 اگست 2026 کو وزارتِ صحت میں جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے ہیومن امیونوڈیفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی) اور حاصل شدہ امیون کمیونٹی سنڈروم (ایڈز) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ پاکستان میں جلد میں نِکاس یا چیر پھاڑ سے متعلق تمام سرجیکل عمل سے قبل ایچ آئی وی کی اسکریننگ لازمی کی جائے۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے وزارتِ صحت کے جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے ایچ آئی وی/ایڈز کے اجلاس میں کہا کہ اب پورے ملک میں ایک یکساں معیار لازم ہونا چاہیے تاکہ سرجری سے پہلے ایچ آئی وی اسکریننگ ریاستی سطح پر نافذ ہو۔
وزیر نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی صحت انتظامیہ کو ضروری نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی تاکہ قبل از سرجری ایچ آئی وی اسکریننگ نافذ کی جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ سندھ، پنجاب اور اسلام آباد دارالحکومت علاقہ میں پہلے ہی ایسے سرجیکل عمل سے قبل اسکریننگ کا نفاذ کیا جا چکا ہے۔
کمال نے بچوں میں ایچ آئی وی کے شکار مریضوں پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا اور کہا کہ علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لیے غذائیت، نفسیاتی معاونت اور فلاحی امداد کو بھی باقاعدہ پروگرام کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ زندگی کا معیار بہتر ہو اور علاج کے نتائج بہتر ہوں۔
مزید برآں وزیر نے صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کو آئندہ اجلاس میں مدعو کرنے کی ہدایت کی تا کہ انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ غیر محفوظ انجکشنز، کمزور انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز اور خون کی حفاظت میں موجود خامیوں کو قومی فریم ورک کے تحت جلد از جلد حل کرنا ہوگا۔
سرجری سے قبل ایچ آئی وی اسکریننگ کے نفاذ کا مقصد نہ صرف مریضوں کی حفاظت بلکہ میڈیکل عملے اور خون کے ذریعے منتقل ہونے والے خطرات کو کم کرنا بھی بتایا گیا۔ وزارتِ صحت کے عہدیداروں نے کہا کہ یکساں قومی پالیسی سے طبی سہولیات میں معیار آ سکتا ہے اور مختلف علاقوں میں موجود فرق ختم ہو گا۔
حکام نے مزید کہا کہ نفاذ کے عمل میں تربیت، لیبارٹری صلاحیتوں کا جائزہ اور آگاه سازی مہمات شامل ہوں گی تاکہ مریضوں اور طبی عملے دونوں کے لیے حفاظتی اقدامات مؤثر بن سکیں۔ وزارتِ صحت نے آئندہ اجلاس میں صوبائی حکام اور ہیلتھ کمیشنز کے ساتھ تفصیلی حکمتِ عملی کا منصوبہ پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔




