آر ایل این جی سے بجلی پیداوار کی لاگت جولائی میں ریکارڈ سطح 47.4 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی

نیپرا اور ٹوپ لائن کے اعداد کے مطابق جولائی 2026 میں آر ایل این جی سے بجلی پیداوار کی لاگت 47.4 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی؛ قطر انرجی کی سپلائی میں خلل اور مہنگے اسپاٹ کارگو کی خریداری وجہ بنی۔

ٹوپ لائن سیکیورٹیز اور قومی برقی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے اعداد و شمار کے مطابق ریگیسفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت جولائی 2026 میں فی یونٹ 47.4 روپے تک جا پہنچ کر ریکارڈ کی حد عبور کر گئی، جو قطر انرجی کی ترسیل میں خلل اور مہنگے اسپاٹ کارگو خریداروں پر انحصار کے باعث ہوئی۔

پاکستان میں ریگیسفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت جولائی 2026 میں تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی۔ ٹوپ لائن سیکیورٹیز کے اعداد و شمار اور قومی برقی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی معلومات کے مطابق جولائی میں یہ لاگت فی یونٹ 47.4 روپے ریکارڈ کی گئی۔

نیپرا کے اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ آر ایل این جی پر مبنی پیداواری لاگت اپریل 2026 میں 14 روپے فی یونٹ سے کم تھی، جو جولائی تک پہنچتے پہنچتے 242 فیصد کے اضافے کے ساتھ 47.4 روپے تک جا پہنچی۔ 2022 سے قبل عام طور پر یہ لاگت فی یونٹ 20 سے 26 روپے کے درمیان قائم رہی تھی، مگر 2026 میں تیزی سے بڑھ گئی۔

یہ اضافی بوجھ بنیادی طور پر اس وقت پیدا ہوا جب قطر انرجی نے معاہدہ شدہ فراہمی میں خلل کے باعث مارچ 2026 میں اپنا ’فورس میجور‘ اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد پاکستان کو قطر سے معاہدہ شدہ ایل این جی کی بجائے بین الاقوامی منڈی سے متبادل، عموماً اسپاٹ، کارگو خریدنے پڑے جن کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں۔

حکومت کے زیرِ اختیار حکام یا متعلقہ کمپنیوں کی طرف سے فوری طور پر کوئی بیان شائع نہیں ہوا، تاہم رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے جولائی میں پانچ اسپاٹ کارگو حاصل کئے تاکہ معاہدہ شدہ سپلائی کے خلل کو پُر کیا جا سکے۔ ان خریداریوں کی بلند قیمتیں پیداوار لاگت میں براہِ راست عکاسی کرتی ہیں۔

توانائی کے تجزیہ نگار اس بابت خدشات ظاہر کر چکے ہیں کہ اگر بین الاقوامی سپلائی میں خلل برقرار رہا تو صارفین کے بلوں اور بجلی کے شعبے کے مالیاتی بوجھ پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ نیپرا کے اعداد و شمار اور ٹوپ لائن کی چارٹنگ سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کی توانائی کی خریداری حکمتِ عملی میں تبدیل نہ ہوئی تو قیمتیں مزید اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہیں۔

اس بصیرت پر مبنی رپورٹ عام کاروباری اور توانائی مارکیٹ کے تجزیاتی مشاہدات پر مبنی ہے اور تازہ ترین رسمِ کاغذی اعداد و شمار کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531