پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے کہا کہ گوگل اب پاکستان کے ضابطوں کے ساتھ 88 فیصد مطابقت رکھتا ہے، جب کہ ریگولیٹر سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ رابطے اور آن لائن حفاظت بہتر بنانے کے لیے مسلسل ملاقاتیں کر رہا ہے۔
میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے یہ بات گوگل کے “ڈیجیٹل پاسبان” پروگرام کے آغاز کے موقع پر کہی۔ انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی روزانہ تقریباً 500 سوشل میڈیا سے متعلق شکایات وصول کرتی ہے، جس کی روشنی میں کمپنیوں کے ساتھ قریبی رابطے کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ہر دو ماہ بعد سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ باضابطہ ذاتی ملاقاتیں کرتی ہے جبکہ وہ خود ان کے نمائندوں کے ساتھ ہفتہ وار آن لائن اجلاس منعقد کرتے ہیں تاکہ پاکستانی قوانین اور ریگولیٹری تقاضوں پر بات چیت جاری رکھی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تیز رفتاری سے فروغ پاتے ہوئے نئے تکنیکیِ رجحانات کی وجہ سے قواعد و ضوابط کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے اور اتھارٹی مختلف پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر مقامی قوانین کی پاسداری کو بہتر بنانے کے لیے مستقل بات چیت کر رہی ہے۔
پی ٹی اے چیئرمین نے ملک میں کنیکٹیوٹی بہتر بنانے کی حکومتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ مارچ میں پاکستان نے ایک ہی نیلامی میں مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم نیلام کر کے کنیکٹیوٹی کی استعداد بڑھانے کی جانب بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ڈیجیٹل خدمات اور انٹرنیٹ کنکشن کو مضبوط بنانا ہے۔
علاوہ ازیں حفیظ الرحمن نے بچوں کے ڈیجیٹل استعمال کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بچے سابقہ نسلوں کے مقابلے میں زیادہ وقت گھروں میں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گزار رہے ہیں، اس لیے والدین، ریگولیٹرز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ذمہ دارانہ آن لائن استعمال کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ محفوظ آن لائن ماحول خاص طور پر بچوں اور آئندہ نسلوں کے لیے ضروری ہے اور اس کے لیے باہمی تعاون لازمی ہوگا۔



