20 اگست 2026ء کو عدالتِ عظمیٰ پاکستان (سپریم کورٹ) نے جیل میں قید سابق وزیرِاعظم عمران خان کو اسلام آباد کے الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں طبی معائنے کے لیے منتقل کرنے کا حکم دیا، جس پر حکومت نے نظرثانی کی درخواست دائر کر دی اور مبصرین نے ممکنہ سیاسی مذاکرات کی قیاس آرائیوں میں اضافہ دیکھا۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق عدالتِ عظمیٰ پاکستان (سپریم کورٹ) کے اِس عبوری حکم نے فوری طور پر سیاسی ماحول میں ہلچل مچادی۔ شہباز شریف کی حکومت نے عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سزا یافتہ قیدیوں کا طبی علاج عمومی طور پر جیل کے اندر یا کسی سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت درخواست دے گی تاکہ سابق وزیرِاعظم کے طبی معائنے نجی ہسپتال کے بجائے کسی سرکاری ادارے میں کرائے جائیں۔
سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد بعض حلقوں نے اِس کو حکومت اور عمران خان کے درمیان کسی ممکنہ سیاسی سمجھوتے کا اشارہ قرار دیا تاہم پاکستان ٹحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنمائوں نے اِن قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور کسی کے درمیان کوئی ڈیل نہیں ہے، یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جس کا پارٹی بھرپور خیر مقدم کرتا ہے۔
امریکہ میں مقیم تجزیہ کار رضا رومی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جیل کے تین سال نے عمران خان کو پاکستانی سیاست سے باہر نہیں کیا، وہ اب بھی پی ٹی آئی کا سیاسی اثاثہ ہیں لیکن جماعت کا اُن پر انحصار قیادت اور تنظیمی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔
قانونی ماہر اُسامہ ملک نے ڈی ڈبلیو کو کہا کہ قانونی طور پر عمران خان کو ضمانت یا سزاؤں میں کوئی معطلی نہیں دی گئی اور وہ بطور قیدی ہی رہیں گے، ہسپتال کا ایگزیکٹو وارڈ ذیلی جیل کے طور پر کام کرے گا۔
سیاستدان طلال چوہدری نے کہا کہ عدالتیں عمران خان کے مقدمات کا فیصلہ کریں گی۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ حکومت اور عمران خان کے درمیان کسی بڑی ڈیل کے امکانات محدود ہیں اور ملک میں گہری بداعتمادی بڑی رکاوٹ ہے۔




