گوگل نے 20 اگست 2026 کو اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں والدین کے لیے یوٹیوب شارٹس کے دیکھنے کے وقت کو کنٹرول کرنے والا نیا فیچر متعارف کرا رہا ہے، جس میں مختصر ویڈیوز کی حد کو صفر پر مقرر کرنے کا آپشن بھی شامل ہے۔ یہ اقدام گوگل کی آن لائن حفاظت مہم ڈیجیٹل پاسبان کے تحت شروع کیا گیا ہے تاکہ خاندان بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کو بہتر طور پر منظم کر سکیں۔
سان فرانسِسکو کی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان میں والدین کو بچوں کے یوٹیوب شارٹس کے استعمال پر کنٹرول دینے والا نیا ٹول متعارف کرایا ہے۔ اس فیچر کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ والدین شارٹس کے لیے روزانہ وقت کی حد مقرر کر کے اسے صفر بھی رکھ سکتے ہیں، یعنی مختصر ویڈیوز کو مکمل طور پر معطل کر سکتے ہیں۔
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ اس کی ڈیجیٹل پاسبان مہم کا حصہ ہے، جسے کمپنی نے پاکستان میں آن لائن حفاظتی اقدامات اور ڈیجیٹل خواندگی بہتر بنانے کے لیے شروع کیا ہے۔ اس مہم کے تحت والدین عمر کے لحاظ سے مناسب مواد کی ترتیبات، “ٹیک اے بریک” اور سونے کے اوقات کی یاد دہانیوں جیسے فیچرز استعمال کر کے بچوں کی اسکرین ٹائم کو منظم کر سکتے ہیں۔
نیا شارٹس کنٹرول والدین کو مزيد لچک دیتا ہے کہ جب بچے پڑھائی یا دیگر سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کریں تو مختصر ویڈیوز کو محدود یا بالکل روک دیا جائے۔ گوگل نے کہا ہے کہ یہ اختیار خاندانوں کو مخصوص اوقات میں شارٹس کو مکمل طور پر بلاک کرنے یا محدود رکھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
اس کے ساتھ گوگل والدین کے لیے فیملی لنک بھی فروغ دے رہا ہے۔ فیملی لنک والدین کو اسکرین ٹائم کے اوقات متعین کرنے، ایپس کی منظوری لینے، مواد کو فلٹر کرنے اور ڈیوائس کے مقام تک رسائی جیسی سہولتیں دیتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ تمام اوزار خاندانوں میں آن لائن حفاظت اور ڈیجیٹل شعور بڑھانے کے اسٹریٹجک اقدام کا حصہ ہیں۔
گوگل کی جانب سے یہ اعلانات پاکستانی صارفین کے لیے کمپنی کی طویل المدتی کوششوں کی جھلک ہیں جن کا مقصد بچوں کے آن لائن تجربات کو محفوظ بنانا اور والدین کو کنٹرول کے قابل ٹولز فراہم کرنا ہے۔ پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق یہ فیچرز جلد پاکستانی صارفین کے لیے دستیاب ہونے چاہئیں۔



