وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جاری تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں قائم غیر ملکی فراڈ نیٹ ورکس متعدد ممالک میں لوگوں کو دھوکہ دہی، بلیک میلنگ اور دیگر آن لائن جرائم کے ذریعے ہدف بنا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں ایف آئی اے نے حالیہ کریک ڈاؤن میں 284 غیر ملکی شہری گرفتار کیے جنہیں قانونی کارروائی مکمل ہونے پر پندرہ دن میں ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ ان گروپس نے آن لائن کال سینٹرز، سائبر فراڈ اور جنسی نوعیت کے مواد کے ذریعے بڑی رقم کمانے کی کوشش کی۔ تفتیش کو وسعت دیتے ہوئے اب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے ریکارڈ اور معلومات طلب کی گئی ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ امیگریشن، پاسپورٹ اور ویزا حکام سے بھی غیرملکیوں کے داخلے، قیام اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات مانگی گئی ہیں تاکہ نیٹ ورکس کے ممکنہ قانونی اور سرحدی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایک انڈونیشیائی شہری جس کا نام تفتیشی رپورٹس میں درج ہے، نے اعتراف کیا کہ اس کے گروپ میں نو افراد شامل تھے جن میں دو چینی اور سات انڈونیشیائی تھے۔ مبینہ طور پر یہ گروپ انڈونیشیائی خواتین، خصوصاً چالیس سال سے زائد عمر کی خواتین کو ہدف بنا کر ماہانہ تقریباً 80,000 ڈالر کماتا تھا۔
وفاقی اور صوبائی پولیس کے ساتھ مل کر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) بھی مالی لین دین، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور متعلقہ آن لائن اکاؤنٹس کی جانچ کر رہی ہے تاکہ پیسے کے راستے اور ممکنہ منظم جرائم کے شواہد سامنے لائے جا سکیں۔
حکومتِ وفاقی نے غیرقانونی کال سینٹرز، سائبر فراڈ اور فحش مواد کے خلاف ایک قومی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کے ماتحت ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جو اسکیمز، انتہاء، بلیک میلنگ اور جوئے کے معاملات کی تحقیقات کرے گی اور روزانہ کی بنیاد پر وزارتِ داخلہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔
حکام نے کہا ہے کہ کراچی میں مبینہ غیرقانونی کال سینٹرز کی ایک فہرست بھی مرتب کی جا چکی ہے اور تفتیشی کارروائیاں جاری ہیں۔ مزید تفصیلات اور متاثرین کی شناخت کے لیے تفتیش جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ جب بھی نئے شواہد ملیں گے انہیں منظرِ عام پر لایا جائے گا۔




