کراچی: آوارہ کتے کے کاٹے کے بعد 24 سالہ شہریار جناح ہسپتال میں ریبیز سے انتقال

کراچی میں آوارہ کتے کے کانٹنے کے تقریباً دو ماہ بعد 24 سالہ شہریار جناح ہسپتال میں ریبیز کے باعث انتقال کر گیا؛ متاثرہ کو ویکسین نہ لگائی گئی تھی۔

کراچی میں آوارہ کتے کے کاٹنے کے تقریباً دو ماہ بعد 24 سالہ شہریار نامی نوجوان جناح ہسپتال میں ریبیز (گروہی مرض) کے باعث انتقال کر گیا۔ اسے اسپتال کی ایمرجنسی میں صبح 3:40 بجے لایا گیا تھا اور وہ صبح 9 بجے کے قریب دم توڑ گیا۔

جناح ہسپتال، کراچی کے طبی حکام نے بتایا کہ متوفی کی شناخت قیوم آباد کا رہائشی شہریار کے نام سے ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق شہریار کو اسپتال لائے جانے سے پہلے ایک ہفتے کے عرصے میں چڑچڑا پن، بےچینی اور پانی کے خوف یعنی ہائیڈروفوبیا کی علامات ظاہر ہوچکی تھیں۔

ہسپتال حکام نے واضح کیا کہ شہریار کو آوارہ کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز کی ویکسین نہیں لگی تھی۔ ابتدائی طبی تشخیص میں ڈاکٹروں نے ریبیز اینسفیلاتائٹس یعنی ریبیز سے پیدا ہونے والی دماغی سوزش کا شبہ ظاہر کیا جس کے بعد نیورو میڈیسن (عصبی ادویات) ٹیم نے مریض کا معائنہ کیا اور ضروری علاج، بشمول سیڈیٹیو ادویات، فراہم کیں۔ تاہم مریض کی حالت بگڑتی چلی گئی اور وہ صبح کے اوقات میں انتقال کر گیا۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے منسلک ریبیز کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ دستیاب سرکاری اور ہسپتالوں کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال شہر میں اب تک 21 افراد ریبیز کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے سات جناح ہسپتال میں اور 11 انڈس ہسپتال (انڈس ہسپتال) میں انتقال کر چکے ہیں۔

مزید براں، اس سال اب تک شہر میں تیس ہزار سے زائد کتے کے کاٹنے کے واقعات درج کیے گئے ہیں، جو آوارہ کتوں کی وجہ سے عوامی صحت کے سنگین خطرے کو اجاگر کرتے ہیں۔ طبی ماہرین بارہا عوام سے اپیل کر چکے ہیں کہ اگر کسی کو کتے نے کاٹا تو فوراً طبّی مراکز سے رابطہ کریں، زخم کی مناسب صفائی کریں اور مختص شدہ ضدِ ریبیز ویکسینیشن کا مکمل کورس بروقت مکمل کریں۔

ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ ریبیز کا بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کی حالت تیزی سے بگڑ سکتی ہے اور موت واقع ہو سکتی ہے۔ شہریوں کو افسرانِ صحت اور مقامی انتظامیہ سے درخواست کی جا رہی ہے کہ آوارہ کتوں کے تدارک کے لیے موثر حکمتِ عملی اپنائی جائے تاکہ مزید اموات سے بچا جا سکے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519