لاہور — معروف شاعر مرحوم حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب مالی مشکلات کے باعث ماڈل ٹاؤن مارکیٹ کے قریب سڑک کنارے اپنا کھانا بیچنے پر مجبور ہو گئیں، جنہیں پہلے دن ہی روک دیا گیا اور مبینہ طور پر بھتہ مانگا گیا۔
لاہور میں طاہرہ حبیب جالب نے کہا ہے کہ مالی تنگدستی کے باعث انہوں نے گھر سے تیار کردہ کھانے ایک روڈ سائیڈ کارٹ پر بیچنے کا آغاز کیا، تاہم پہلے روز ہی انہیں کام سے روک دیا گیا۔ طاہرہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے کاروبار شروع کرنے کے لیے ہزاروں روپے خرچ کیے اور ماڈل ٹاؤن مارکیٹ کے قریب ڈھابہ لگایا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں بلدیہ کے عملے نے ان کی کوشش کی تعریف کی اور محنت سے کمائی کرنے پر احترام کا اظہار کیا، مگر بعد ازاں دوسرے افسران پہنچے اور انہیں کارٹ بند کرنے اور وہاں سے چلے جانے کی ہدایت کی گئی۔ طاہرہ نے الزام لگایا کہ انہیں وہاں کاروبار جاری رکھنے کے لیے بھتہ ادا کرنے کو کہا گیا۔
طاہرہ نے بتایا کہ انہوں نے جون میں پنجاب حکومت کی ماڈل کارٹ مارکیٹ اسکیم کے تحت ڈپٹی کمشنر لاہور کے دفتر میں درخواست دی تھی، مگر ان کی درخواست رد کر دی گئی اور انہیں مطلوبہ معیار پورا نہ کرنے کی وجہ بتائی گئی جبکہ واضح وجہ نہیں دی گئی۔ وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ خود محنت کرکے روزگار تلاش کرنے والی خواتین کو اس طرح کیوں روکا جاتا ہے۔
واقعات کا وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے بعد سندھ کے وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے معاملے پر نوٹس لیا اور طاہرہ سے رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے متعلقہ حکام سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی اور معاملہ پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان تک پہنچانے کی کوشش کی۔
طاہرہ نے کہا کہ وہ 2014 سے نجی کیب سروس چلا رہی ہیں اور فلاحی امداد لینے کے بجائے محنت سے کمانا پسند کرتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکام خواتین کے چھوٹے کاروبار کے لیے واضح قواعد و ضوابط وضع کریں اور غیرقانونی رکاوٹوں اور بھتہ خوری کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔
حالیہ واقعے نے شہر میں خواتین کے روزگار کے مواقع، شہری انتظامات اور اسکیموں کی شفافیت کے سوالات کو اجاگر کیا ہے۔ متعلقہ سرکاری حکام کی جانب سے فوری تبصرہ موصول نہیں ہوا۔




