ماہرین کہتے ہیں کہ مکڑی اور سانپ سے خوف انسانی بقا کا حصہ سمجھی جانے والی فطری آمادگی، حرکت کے غیر مانوس انداز، اور سیکھے ہوئے منفی تجربات کا مرکب ہے۔ نیو جرسی کی روٹجرز یونیورسٹی، ہنگری اور آسٹریا کی یونیورسٹیوں کی تحقیق اسی سوال پر روشنی ڈالتی ہے—ہم یہ خوف کیسے محسوس کرتے اور کب اسے فوبیا کہا جاتا ہے؟
اگر آپ اچانک اپنے گھر کے صوفے پر کسی مکڑی کو دیکھ کر گھبرا جائیں تو آپ منفرد نہیں ہیں۔ نیو جرسی کی روٹجرز یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر وینیسا لوبو بتاتی ہیں کہ خوف انسان کی بقا کے لیے بنیادی احساس ہے اور یہ ہمیں ممکنہ خطرات سے بچاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’خوف اہم ہے کیونکہ یہ ہمیں ان چیزوں سے بچاتا ہے جو ہمارے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔‘
ماہرین مختلف انداز سے واضح کرتے ہیں کہ جب خوف اتنا بڑھ جائے کہ روزمرہ زندگی میں خلل ڈالے تو اسے فوبیا کہا جاتا ہے۔ ہنگری کی یونیورسٹی میں بصری ادراک اور جذبات کی لیبارٹری کے سربراہ آندراس زیڈو کہتے ہیں: ’یہ ایک مرحلہ وار سلسلے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی چیز سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی خوف آپ کی روز مرہ زندگی میں خلل ڈالنے لگے تو اسے فوبیا کہا جا سکتا ہے۔‘
حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مکڑیاں زہریلی نہیں ہوتیں اور دنیا بھر میں مکڑی کے کاٹنے سے ہر سال 10 سے بھی کم افراد ہلاک ہوتے ہیں، مگر دردِ خوف اس حقیقت سے میل نہیں کھاتا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مکڑی اور سانپ کی حرکت اور شکل انسانوں میں بے چینی پیدا کرتی ہے۔ لوبو بتاتی ہیں کہ سانپ اور مکڑیاں ’غیر مانوس انداز‘ سے حرکت کرتی ہیں، جو کئی لوگوں میں ناراحتی اور خوف پیدا کرتی ہے۔
آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی میں ارتقائی نفسیات کی پروفیسر سٹیفنی ہال کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچوں کی آنکھوں کی پتلیاں جب سانپ یا مکڑی کی تصاویر دیکھتی ہیں تو پھول یا مچھلیوں کے مقابلے میں زیادہ پھیلتی ہیں—آنکھ کی پتلی کا پھیلنا ممکنہ خطرے کے ادراک کی علامت ہو سکتی ہے۔ ہال کے مطابق یہ ردعمل نورایڈرینالین نظام سے وابستہ ہے، جو جسم کے ’لڑو یا بھاگو‘ ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن، فشار خون اور سانس کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔
لبِّ مطلب یہ ہے کہ فوبیا ممکنہ طور پر پیدائشی طور پر مکمل طور پر موجود نہیں ہوتے، بلکہ ارتقائی آمادگی کے ساتھ سیکھنے کے عمل کا ملاپ انہیں جنم دیتا ہے۔ لوبو اور دیگر ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ براہِ راست منفی تجربات خوف سیکھنے کے تیز ترین طریقوں میں سے ہیں۔ ارتقائی پس منظر، حرکت کی غیر معمولی نوعیت اور ذاتی تجربات مل کر بعض مخصوص چیزوں، خاص طور پر مکڑیوں اور سانپوں، سے خوف کی شرح بڑھا سکتے ہیں۔




