پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں 15 سال بعد خالی اسامیوں کی بھرتی کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے تعلیمی بورڈز میں برسوں سے خالی رہنے والی اسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ کیا؛ تقرریاں پنجاب پبلک سروس کمیشن (پی پی ایس سی) کے ذریعے شفاف اور میرٹ پر ہوں گی۔

پنجاب حکومت نے صوبے کے تعلیمی بورڈز میں مختلف خالی آسامیوں کو بھرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بھرتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے؛ تقرریاں پنجاب پبلک سروس کمیشن (پی پی ایس سی) کے ذریعے ہوں گی۔

پنجاب حکومت نے تعلیمی بورڈز، جن میں لاہور اور فیصل آباد بورڈ بھی شامل ہیں، میں سالہا سال سے خالی پڑی مختلف آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے بھرتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ محکمۂ تعلیم کے مطابق یہ اقدامات انتظامی کارکردگی بہتر بنانے اور برسوں سے جاری عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

خالی عہدوں میں کمپیوٹر پروگرامر، اسسٹنٹ، سینئر کمپیوٹر آپریٹر، ڈپٹی سیکرٹری، اسسٹنٹ سیکرٹری اور اسٹیٹ آفیسر شامل ہیں۔ خصوصاً لاہور بورڈ میں گریڈ 16 اور 17 کی 33 اسامیاں بھری جائیں گی۔

محکمۂ تعلیم نے بتایا کہ تمام تقرریاں شفاف طریقے سے اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی اور امیدواروں کا انتخاب مقررہ معیار اور تقرری کے قواعد و ضوابط کے تحت کیا جائے گا۔ تمام تقرریاں پنجاب پبلک سروس کمیشن (پی پی ایس سی) کے ذریعے عمل میں لائی جائیں گی تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور قانونی تقاضے پورے ہوں۔

رپورٹس کے مطابق بعض بورڈز کو تازہ بھرتی کے لیے تقریباً 15 سال انتظار کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں انتظامی امور پر منفی اثر پڑا۔ محکمہ نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی بھرتیوں سے بورڈز کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور امتحانی عمل سمیت دیگر انتظامی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں سرانجام دی جا سکیں گی۔

اس سلسلے میں مزید تفصیلات اور اسامیاں جاری ہونے والے سرکاری اشتہارات میں موجود ہوں گی اور درخواست دینے کے عمل کی معلومات پی پی ایس سی کے نوٹس میں واضح کی جائیں گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2867