لائٹننگ روبوٹ نے 100 میٹر میں یوسین بولٹ کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

بیجنگ میں ورلڈ ہیومینوئڈ روبوٹ گیمز میں روبوٹ لائٹننگ نے 100 میٹر 9.39 سیکنڈ میں طے کر کے یوسین بولٹ کا 9.58 سیکنڈ والا ریکارڈ توڑ دیا، مقابلوں میں 2000 روبوٹس شریک تھے۔

بیجنگ میں منعقدہ ورلڈ ہیومینوئڈ روبوٹ گیمز میں ایک ہیومینوئڈ روبوٹ لائٹننگ نے 100 میٹر دوڑ 9.39 سیکنڈ میں مکمل کر کے یوسین بولٹ کے 9.58 سیکنڈ کے انسانی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا، جہاں مقابلوں میں 2000 سے زائد روبوٹس شریک تھے۔

بیجنگ میں منعقدہ پانچ روزہ ورلڈ ہیومینوئڈ روبوٹ گیمز میں متعارف ہونے والے روبوٹ لائٹننگ نے 100 میٹر اسپرنٹ 9.39 سیکنڈ میں طے کر کے دنیا بھر کے ماہرین ٹیکنالوجی کی توجہ حاصل کر لی۔ اس نتیجے نے جامائیکا کے تیز رفتار سپرنٹر یوسین بولٹ کے 2009 میں قائم کردہ 9.58 سیکنڈ کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

مقابلوں میں دنیا بھر کے 16 ممالک سے 2000 سے زائد روبوٹس شرکت کر رہے تھے، جن میں ٹیکنالوجی کمپنیوں، تحقیقی گروپوں اور روبوٹکس ٹیموں نے حصہ لیا۔ گیمز میں دوڑ کے علاوہ فٹبال، ٹیبل ٹینس اور دیگر ایسے چیلنجز بھی شامل تھے جو روبوٹوں کی رفتار، ہم آہنگی اور خود مختاری کو آزمانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ اس کارنامے نے ہیومینوئڈ روبوٹکس میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کی عکاسی کی، جہاں انجینئرز روبوٹ کی حرکت، توازن، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور میکینیکل کارکردگی میں مسلسل بہتری لا رہے ہیں۔ حالانکہ جدید نسل کے روبوٹس اب دوڑنے، چھلانگ لگانے اور کھیلوں میں حصہ لینے جیسے پیچیدہ اعمال انجام دے سکتے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارنامے فی الحال زیادہ تر تکنیکی پیشرفت کے مظاہرے ہیں۔

روبوٹس کو رفتار بڑھانے کے بعد استحکام اور حرکت پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا بھی رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حرکت کنٹرول میں مزید بہتری ابھی بھی ضروری ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے ہیومینوئڈ روبوٹکس کو ایک بڑی تکنیکی ترجیح بنا رکھا ہے اور اس شعبے میں مصنوعی ذہانت، روبوٹ ہارڈویئر اور آٹومیشن میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

ورلڈ ہیومینوئڈ روبوٹ گیمز چین کی اسی کوشش کا مظہر ہیں جو ایسے مشینیں تیار کرنا چاہتا ہے جو مستقبل میں مینوفیکچرنگ، صحتِ عامہ، لاجسٹکس اور روزمرہ خدمات میں معاون ثابت ہوں۔ واضح رہے کہ اگرچہ روبوٹس کھیلوں میں انسانی کھلاڑیوں کی کارکردگی سے آگے نکل رہے ہیں، مگر وہ انسانی کھلاڑیوں کی جگہ لینے کے بجائے ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے مظاہرے سمجھے جا رہے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2854