رینی وونگ اور ایپریل لی جو 12 سال کی عمر سے ایک دوسرے کو جانتی ہیں، 2024 میں لاس اینجلس میں قانونی طور پر شادی کر گئیں اور 2026 میں اپنی دوسری سالگرہ منا رہی ہیں۔ دونوں کا کہنا ہے کہ ان کا رشتہ رومانوی یا جنسی کشش پر نہیں بلکہ دیرینہ دوستی اور اعتماد پر مبنی ہے۔
برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) سے بات کرتے ہوئے رینی وونگ نے بتایا کہ وہ اور ایپریل لی اسکول کے زمانے سے انتہائی قریب تھیں اور عمر کے ابتدائی سالوں میں ہی ایک دوسرے کے لیے وہ جگہ بھردی جس کی وجہ سے ان کا تعلق بہنوں جیسا بن گیا۔ دونوں سنگاپور کے ایک سکول میں ملیں،ایک ساتھ پڑھتی رہیں، گھر جاتی تھیں اور چرچ بھی مل کر جاتیں۔
وقت کے ساتھ ان کا رشتہ گہرا ہوتا گیا اور خاندان ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ پھر زندگی نے انہیں الگ راستوں پر بھیجا: رینی اعلیٰ تعلیم کے لیے لاس اینجلس منتقل ہو گئیں جبکہ ایپریل سنگاپور میں رہیں، مگر مختلف براعظموں کے باوجود ان کی دوستی برقرار رہی۔
کورونا کی وبا نے ان کے رشتے میں ایک نیا موڑ دیا۔ جب سرحدیں بند ہو گئیں اور لوگ الگ تھلگ رہ گئے تو دونوں روزانہ کئی گھنٹے باتیں کرنے لگیں اور رینی کو احساس ہوا کہ اگر دنیا میں کوئی انہیں سب سے زیادہ عزیز ہے تو وہ ایپریل ہے۔ رینی نے کہا کہ یہ رومانوی محبت نہیں تھی مگر ایسا بندھن تھا جسے وہ زندگی بھر کے لیے چاہتی تھیں۔
انہوں نے سوچا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی کے اہم لمحوں میں ایک ہی انسان ساتھ ہو، تو کیوں نہ اپنی دوستی کو باقاعدہ طور پر رشتہ بنا دیا جائے؟ اس سوچ کے زیرِ اثر انہوں نے 2024 کے آغاز میں لاس اینجلس میں شادی کر لی۔ دونوں بتاتی ہیں کہ وہ خود کو ابیلنگی کہتی ہیں—یعنی جذباتی یا رومانوی طور پر ایک سے زائد جنس کی طرف کشش محسوس کر سکتی ہیں—لیکن اپنے آپس کے تعلق میں نہ تو رومانوی اور نہ ہی جنسی کشش محسوس کرتی ہیں۔
رینی مذاق میں کہتی ہیں کہ ان کی جسمانی کیمسٹری ’بالکل نہیں بنتی۔‘ ان کے بقول بچپن کے ساتھ بڑھنے کی وجہ سے تعلق بہنوں جیسا بن گیا اور شادی ان کے لیے رومانس کے بجائے ایک ایسے بندھن کا اظہار تھی جو برسوں کی دوستی، اعتماد اور باہمی وابستگی پر مبنی تھا۔
دونوں کا کہنا ہے کہ ان کی شادی کسی پوشیدہ معاہدے یا رومانوی تبدیلی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک حقیقت کا اعتراف ہے: ان کی زندگی میں سب سے اہم رشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے قائم تھا اور اسے وہ مقام ملنا چاہیے جو معاشرہ عام طور پر رومانوی رشتوں کو دیتا ہے۔
رینی اور ایپریل کی مثال سے ماہرینِ معاشرتی تعلقات میں بڑھتی ہوئی بحث سامنے آتی ہے کہ شادی اور ہمسری کے روایتی معنوں میں صریح تبدیلیاں آ رہی ہیں اور لوگ اپنے نزدیک ترین تعلقات کو مختلف انداز سے منظم کرنے لگے ہیں۔




