مریم نواز نے فیصل آباد اور گوجرانوالہ پیلی لائن منصوبے مارچ 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں ہدایت کی کہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ پیلی لائن ماس ٹرانزٹ منصوبے مارچ 2027 تک تین شفٹوں میں کام کر کے مکمل کیے جائیں، پیش رفت ڈرون فوٹیج سے دیکھی گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں منعقدہ خصوصی اجلاس میں حکام کو ہدایت کی ہے کہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے پیلی لائن ماس ٹرانزٹ منصوبے مارچ 2027 تک مکمل کیے جائیں؛ انھوں نے تین شفٹوں میں کام کرنے اور ڈرون فوٹیج کے ذریعے پیش رفت مانیٹر کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے پیلی لائن ماس ٹرانزٹ منصوبوں کو مقررہ مدت یعنی مارچ 2027 تک مکمل کیا جائے۔ یہ ہدایت انھوں نے لاہور میں ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی جہاں منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

مریم نواز نے کہا کہ عام شہری کئی مشکلات سے دوچار ہیں لہٰذا منصوبوں کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔ انہوں نے حکام کو تین شفٹوں میں کام کرنے کی ہدایت دی تاکہ تعمیری کام تیز ہو سکے، ساتھ ہی اجلاس میں تعمیراتی کام کی ڈرون فوٹیج کے ذریعے مانیٹرنگ بھی کی گئی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گوجرانوالہ پیلی لائن کا کل رقبہ 31.5 کلومیٹر ہوگا، جس میں 25 اسٹیشن اور دو زیرِ زمین اسٹیشن شامل ہیں۔ منصوبے میں 12 انڈر پاس، 35 کلومیٹر سروس روڈ اور بغیر سگنل کے یو ٹرن بھی بنائے جائیں گے۔ حکام نے بتایا کہ گوجرانوالہ منصوبے کا تقریباً ایک تہائی حصہ مکمل ہو چکا ہے؛ اب تک 1,233 پولز اور 552 ٹرانسفارمرز نصب کیے جا چکے ہیں، جب کہ 62 کلومیٹر طویل ڈرینج سسٹم کا کام 40 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

فیصل آباد ماس ٹرانزٹ سسٹم کے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کے لیے 1,835 درخت دوبارہ لگائے گئے ہیں، 15 کلومیٹر گیس پائپ لائنیں بچھائی جا چکی ہیں اور 12 بس اسٹاپس تعمیر کیے گئے ہیں۔

مزید براں اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ گوجرانوالہ منصوبے کے تحت 15,000 فٹ سیوریج لائنیں، 12,000 فٹ پانی کی سپلائی لائنیں اور 11,000 فٹ گیس پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔

مریم نواز نے حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کام میں رکاوٹیں دور کی جائیں اور شیڈول کے مطابق رفتار برقرار رکھی جائے، تاکہ دونوں شہروں کے شہریوں کو جلد جدید اور موثر عوامی نقل و حمل کی سہولت میسر ہو سکے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519